خطبات محمود (جلد 12) — Page 87
لمبات محمود سال ۱۹۲۹ء خیالات ہوتے ہیں اور زبان کچھ اور کہہ رہی ہوتی ہے۔اس وجہ سے زبان کے فیصلوں کا چنداں اعتبار نہیں ہوتا جب تک کہ انسان کے دل میں ان کے متعلق عزم نہ ہو۔جب تک انسان قلب میں پختہ ارادہ نہ کر چکا ہو اُس وقت تک اس کے زبانی فیصلے کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ہم مجلس مشاورت میں جمع ہوئے بڑے بڑے اہم معاملات پر غور کیا گیا، ان کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا گیا آخر ہم کسی نہ کسی نتیجہ پر پہنچے لیکن اس طرح نتائج پر دنیا ہمیشہ پہنچا ہی کرتی ہے دنیا کی کونسی قوم ہے جو اپنے مستقبل کے متعلق کسی نہ کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتی۔مگر کیا ہر قوم دنیا میں کامیاب بھی ہو جایا کرتی ہے؟ اپنے مستقبل کے متعلق ہر قوم فیصلہ کرتی ہے مگر کامیاب وہی ہوتی ہے جو صحیح فیصلہ کرتی ہے اور پھر اس پر عمل بھی کرتی ہے۔بڑے بڑے فیصلوں کا طومار چھوٹی سے چھوٹی جدو جہد کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور زبانی تقریریں عمل کی خفیف سی حرکت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتیں۔پس میں اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جن امور پر انہوں نے مجلس مشاورت میں غور کیا اور آئندہ کے لئے اپنا جو پروگرام مقرر کیا جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرنے کے لئے جدو جہد کریں۔ہماری حالت دنیا کی قوموں کی حالت سے نرالی ہے اور جس قد رانبیاء آئے ان کی قوموں کی حالت دنیا سے نرالی ہی تھی۔پھر جو جماعتیں انبیاء سے تعلق رکھتی تھیں ان سے معاملہ بھی نرالہ ہی کیا گیا۔دنیا کے تمام ملکوں کو دیکھ لو ان کا ایک حد تک آپس میں اتحاد پایا جاتا ہے۔انہیں ایک دوسرے سے بغض اور کینہ ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے حکومتوں کے جتھے ہوتے ہیں۔جاپان کی اگر چین اور امریکہ سے سخت عداوت ہے تو انگریزوں سے صلح ہے اسی طرح ایک دوسرے کے مقابلہ میں حکومتوں کا جتھہ ہوتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے دشمن کا عینا درو کنے اور اس کے ضرر سے بچنے کے لئے۔تو مختلف سلطنتوں کے جتھے قائم ہیں۔بعض کے قلبی تحریکات کا نتیجہ ہیں اور بعض نے تحریری معاہدے کئے ہوئے ہیں۔ہندوستان اگر آزادی کی جد و جہد کر رہا ہے تو فرانس کو روس کو افغانستان کو ایران کو اس سے ہمدردی ہے اگر مصر آزادی کے لئے جدو جہد کر رہا ہے تو ایران کو ہندوستان کو اور افغانستان کو اس سے ہمدردی ہے۔غرض تمام ممالک کا کوئی نہ کوئی ہمدرد موجود ہے۔مگر انبیاء کی جماعتیں جس کام کے لئے کھڑی ہوتی ہیں۔اس میں وہ اکیلی ہوتی ہیں اور باقی ساری دنیا ان کی دشمن ہوتی ہے۔باقی سب ان کے بیری