خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 57

خطبات محمود ۵۷ سال ۱۹۲۹ء پہلوں کا حوالہ تو صرف اس لئے دیا کہ تا مسلمان اسے کوئی بوجھ محسوس نہ کریں اور یہ نہ کہدیں یہ چپٹی ہم پر ڈال دی گئی ہے۔اور آگے اس امر کا جواب کہ ہمیں روزے کیوں رکھنے چاہئیں یہ ہے لعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا تمہیں تقویٰ حاصل ہو۔پس اس آیت کے آخری جملہ میں وہ وجہ بیان کی ہے جس سے روزوں کی ضرورت ثابت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ تا تمہیں اتقاء نصیب ہو۔اتقاء کے کیا معنی ہیں یہ لفظ وقایہ سے ہے جس کے معنی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔یا وہ چیز جس سے انسان دوسرے کے حملہ سے محفوظ رہ سکے اسے وقایہ کہا جاتا ہے پر لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کے یہ معنے ہوئے کہ تائم ہر شر اور فضیلت کے فقدان سے محفوظ رہو۔ضعف دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ انسان کو کوئی شر پہنچ جائے اور دوسرے یہ کہ کوئی نیکی اس کے ہاتھ سے جاتی رہے۔جیسے کوئی کسی کو مار بیٹھے تو یہ بھی ایک شر ہے۔اور دوسرا یہ بھی شر ہے کہ کسی کے ماں باپ اس سے ناراض ہوں۔اگر کسی کے والدین ناراض ہو کر اس کے گھر سے نکل جائیں تو بظاہر اس کا کوئی نقصان نظر نہیں آتا بلکہ ان کے کھانے کا خرچ بیچ سکتا ہے۔لیکن ماں باپ کی رضا مندی ایک خیر ہے برکت ہے فلاح ہے اور جب وہ ناراض ہو جائیں تو انسان اس خیر سے محروم ہو جاتا ہے۔یعنی ایک یہ کہ کوئی کسی کے سر پر لٹھ مارنے لگا ہے وہ اس سے بچ جائے تو وہ شر سے محفوظ رہا اور دوسرے یہ کہ کوئی خیر ہاتھ سے جاتی رہے اور اتقاء ان دونوں باتوں پر دلالت کرتا ہے اور متقی وہ ہے جسے ہر قسم کی خیر مل جائے اور وہ ہر قسم کی ذلت اور شر سے محفوظ رہ سکے اس سے آگے پھر شر کا دائرہ بھی ہر کام کے لحاظ سے محدود ہے مثلا اگر کوئی شخص گاڑی میں سفر کر رہا ہے تو اس کا شر سے محفوظ رہنا یہی ہے کہ وہ گر نہ جائے یا اسے کوئی حادثہ پیش نہ آئے اور بحفاظت منزل مقصود پر پہنچ جائے۔سواری کے متعلق جب یہ لفظ بولا جائے تو اس سے ایسے ہی شر مراد ہو سکتے ہیں جن کا تعلق سوار سے ہے اسی طرح روزے کے تعلق میں بھی ایسے ہی خیر اور شر مراد ہو سکتے ہیں جن کا تعلق روزے سے ہو اور روزہ ایک دینی مسئلہ ہے یا بلحاظ صحت انسانی دنیوی امور سے بھی معمولی تعلق رکھتا ہے۔پس لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کے معنی ہوئے تا تم دینی شرور سے محفوظ رہو دینی خیر و برکت تمہارے ہاتھ سے نہ جاتی رہے یا تمہاری صحت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔بہت سے روزے امراض سے نجات دلانے کا موجب ہو جاتے ہیں۔آج کل کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بڑھا پا یا کمزوری آتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ انسان کے جسم میں زائد مواد جمع ہو جاتے ہیں اور ان سے بیماری یا موت پیدا ہوتی