خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 56

خطبات محمود ۵۶ سال ۹ بیان کرنے کی ضرورت نہیں غلط ہے۔یوں بھی عام طور پر لوگ بھول جایا کرتے ہیں اور توجہ دلانے کے محتاج ہوتے ہیں۔لیکن جو جماعت تبلیغ کا کام کرتی ہے اور جس کی تعداد نہ صرف نو زائیدہ بچوں سے بلکہ نو وار دلوگوں سے بھی جو مختلف جماعتوں اور مذاہب سے آتے ہیں بڑھتی رہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اہم اور ضروری امور بار بار بیان ہوتے رہیں تا اس کے نو وار دلوگوں کی واقفیت میں کمی نہ رہ جائے۔میری طبیعت کے لحاظ سے اس وقت رمضان پر تفصیلی طور پر بیان کرنا مشکل ہے۔کیا بلحاظ اس کے کہ میں عرق النساء کے باعث بیمار ہوں اور اسی وجہ سے باوجود قادیان میں موجود ہونے کے گذشتہ جمعہ میں نہیں آسکا تھا اور کیا بلحاظ اس کے کہ میں بوجہ بیماری روزہ دار نہیں اور روزہ نہ رکھتے ہوئے روزہ کے فوائد اور اس کی حکمتیں بیان کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔لیکن چونکہ جماعت کے فوائد شخصی میلانوں پر مقدم ہوتے ہیں اس لئے باوجود کراہت کے میں نے ضروری سمجھا کہ کچھ بیان کر دوں۔اس دوست نے تین سوال کئے تھے جن میں سے پہلا یہ تھا کہ روزہ کی غرض کیا ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں؟ اس کا جواب مختصر اور چھوٹا تو یہی ہے کہ قرآن کریم نے خود یہ سوال پیدا کیا ہے۔صاف لفظوں میں نہیں بلکہ صرف اشارہ کیا ہے۔فرمایا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمُ یعنی مسلمانوں پر روز بے فرض کئے گئے ہیں جیسے اور پہلی جماعتوں پر فرض کئے گئے تھے۔یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے اور قرآن نے اس سوال کو خود پیدا کیا ہے کہ صرف کسی قوم میں کسی رواج کا پایا جانا یا پہلوں میں کسی دستور کا ہونا اس امر کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ آئندہ نسلیں بھی ضرور اس کا لحاظ رکھیں۔بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو پہلے لوگوں میں موجود تھیں لیکن دراصل وہ غلط ہیں اور بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو آج لوگوں میں پائی جاتی ہیں حالانکہ وہ غلط ہیں۔پس محض اس وجہ سے کہ پہلی قو میں کوئی بات کرتی رہی ہیں یہ نتیجہ نکالنا کہ آئندہ بھی وہ کی جائے صحیح نہیں۔قرآن کریم نے اس اعتراض کے وزن کو قبول کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پہلی امتوں میں روزہ کا وجود اس کی فضیلت کی کوئی دلیل ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ تم پر یہ کوئی زاہد بوجھ نہیں بلکہ پہلوں پر بھی یہ بوجھ ڈالا گیا تھا۔پس یہ روزوں کی فضیلت کی کوئی دلیل نہیں فضیلت کی دلیل آگے بیان فرمائی ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔