خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 58

خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۲۹ء ہے۔بعض نادان تو اس خیال میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ کہتے ہیں جس دن ہم زائد مواد کو فنا کرنے میں کامیاب ہو گئے اُس دن موت دنیا سے اُٹھ جائے گی۔اگر چہ یہ خیال غلط ہے تا ہم اس میں شک نہیں کہ تھکان اور کمزوری وغیرہ جسم میں زائد مواد جمع ہونے سے ہی پیدا ہوتی ہے اور روزہ اس کے لئے بہت مفید ہے۔شریعت نے بیمار اور مسافر کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے اور تندرست کے لئے ضروری ہے اور میں نے دیکھا ہے صحت کی حالت میں جب روزے رکھے جائیں تو دوران رمضان میں بے شک کچھ کو فت محسوس ہوتی ہے مگر رمضان کے بعد جسم میں ایک نئی قوت اور تر و تازگی کا احساس ہونے لگتا ہے یہ فائدہ تو صحت جسمانی کے لحاظ سے ہے مگر اس کے بہت سے باطنی فوائد بھی ہیں۔اور ایک قومی فائدہ یہ ہے کہ قوم میں غریب امیر ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں غرباء بیچارے سارا سال تنگی سے گزارہ کرتے ہیں اور انہیں کئی فاقے آتے ہیں مگر وہ ان کے لئے کسی ثواب کا موجب نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے رمضان کے ذریعہ انہیں توجہ دلائی ہے کہ وہ ان فاقوں سے بھی ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے لئے فاقوں کا اتنا بڑا ثواب ہے کہ حدیث میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ساری نیکیوں کے فوائد اور ثواب الگ الگ ہیں اور روزہ کا ثواب میری ذات ہے۔تو اس میں غرباء کو کیا ہی عجیب نکتہ بتلایا کہ ان تنگیوں پر بھی اگر وہ بے صبرے اور ناشکرے نہ ہوں اور حرف شکایت زبان پر نہ لائیں (جیسے بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمیں خدا نے کیا دیا ہے کہ نمازیں پڑھیں اور روزے رکھیں جنہیں بہت سا رزق دیا ہے وہ روزے رکھتے اور نمازیں پڑھتے پھریں ) اور سمجھ لیں کہ خدا نے ان کی ترقی کے بھی سامان بہم پہنچائے ہیں اور ساتھ ہی اپنی حالت کی اصلاح کے لئے کوشش بھی کرتے رہیں تو یہی فاقے ان کے لئے نیکیاں بن جائیں اور ان کا بدلہ خود خدا بن جائے گا۔پس اللہ تعالی نے روزوں کو غرباء کے لئے تسلی کا موجب بنایا ہے تا وہ مایوس نہ ہوں اور یہ نہ کہیں کہ ہماری فقر و فاقہ کی زندگی کس کام کی ہے۔اللہ تعالٰی نے روزہ میں انہیں یہ گر بتایا ہے کہ اگر اسی | فقر و فاقہ کی زندگی کو وہ خدا تعالی کی رضا کے مطابق چلا ئیں تو یہی انہیں خدا تعالیٰ سے ملا سکتی ہے۔دنیا میں اس قدر لوگ امیر نہیں جتنے غریب ہیں اور تمام دینی سلسوں کی ابتداء غرباء سے ہوئی اور انتہاء بھی غرباء پر ہی ہوئی۔تقریباً تمام انبیاء بھی غرباء سے تعلق رکھتے تھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی بڑے آدمی نہ تھے، حضرت عیسی علیہ السلام بھی غریب تھے رسول کریم اللہ بھی