خطبات محمود (جلد 12) — Page 499
خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۳۰ء ہیں۔دنیا میں خدا تعالیٰ نے کتنی نعمتیں پیدا کی ہیں مگر وہ یہی کہیں گے کہ سامان نہیں۔بعض اپنی جماعت کے دوست بھی اسی طرح کہہ دیتے ہیں جب ان سے تبلیغ کرنے کو کہا جائے تو وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس کتا بیں نہیں ہیں فلاں فلاں کتاب ہو تو پھر ہم تبلیغ کر سکتے ہیں۔پہلے ذخائر جو موجود ہیں ان سے تو وہ کوئی فائدہ اُٹھاتے نہیں لیکن نیا لٹریچر نہ ملنے کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح میں نے بعض نادانوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اخبارات میں تو کچھ ہوتا ہی نہیں اور ان کے پڑھنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔میں نے تو ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا ہے کہ مجھے تو ان سے فا ئدہ پہنچ جاتا ہے تمہاری عقل معلوم نہیں کیسی ہے کہ تمہیں ان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا تو یہ سب باتیں سامان کا انکار ہے۔پھر بعض کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں فرصت نہیں حالانکہ یہ بالکل فضول بات ہے اور اس کے معنے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ان کا دل نہیں چاہتا۔کچھ الفاظ لوگوں نے ایسے وضع کر لئے ہیں جن کی آڑ میں اپنی کمزوری کو چھپا سکیں وگرنہ ایسا کہنے والے سو میں سے شاید ہی ایک آدمی ایسا ہو جسے فی الواقع فرصت نہ ہومگر ننانوے ایسے ہیں جن کا دل نہیں چاہتا مگر اپنے نفس کو شرمندگی سے بچانے کیلئے یہ لفظ انہوں نے بنایا ہوا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں بہت کام رہتے ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ چوبیس گھنٹہ رہ کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بارہ گھنٹے ضرور ہی ضائع کرتے ہیں۔کبھی کہیں بیٹھے باتیں کرتے رہیں گے کبھی گھر میں لیٹے رہیں گے لیکن اگر کام کے لئے کہا جائے تو یہی کہہ دیں گے کہ ہمیں بالکل فرصت نہیں ملتی تو یہ ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی کوئی نہیں۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ محنت بھی کرتے ہیں مگر ان کے دل میں یقین اور اعتماد نہیں ہوتا کہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔بعض لوگ تبلیغ کر کے دوسروں کو تنگ کر دیتے ہیں مگر خیال یہی کرتے ہیں کہ ہماری کون مانتا ہے۔اور جب پہلے فرض ہی یہی کر لیا جائے کہ ہماری کوئی نہیں مانے گا تو کامیابی کیا خاک ہوگی۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آنا عِندَ ظَنِ عَبْدِى بِى " یعنی میرا بندہ مجھ سے جیسی توقع رکھے میں اس سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔بعض اوقات بندہ کہتا ہے میں مرگیا تو فرشتے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہاں مر گیا۔وہ کہتا ہے مجھ پر سخت آفت آئی ہے تو فرشتے بھی کہہ دیتے ہیں کہ اچھا آ گئی۔تو بہت لوگ یہاں آ کر فیل ہو جاتے ہیں بلکہ کثرت سے اسی طرح فیل ہوتے ہیں کہ انہیں