خطبات محمود (جلد 12) — Page 500
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء خدا تعالی پر یقین اور اعتماد نہیں ہوتا کہ وہ ہماری مدد کرے گا اور ہم نا کام نہیں رہیں گے اس یقین اور ایمان کی کمی انسان کو نکما کر کے رکھ دیتی ہے۔اس کے برعکس بعض لوگ ان پڑھ اور جاہل ہوتے ہیں مگر ان کے اندر ایسا یقین اور ایمان ہوتا ہے جو خدا کی محبت کو بھینچ لیتا ہے اور ان کے اندر ایسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ جو بات کرتے ہیں دوسرا خواہ مخواہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ سچا ہے۔مگر ایک اور انسان جس کے اندر یہ یقین اور ایمان نہیں ہوتا وہ دلائل دے دے کر تھک جاتا ہے مگر دوسرا یہی سمجھتا ہے کہ یہ محض باتیں ہی باتیں ہیں حقیقت کچھ نہیں۔تو ملک یوم الدین جو آخری انجام ہے وہی اکثر لوگوں کی ناکامی کا موجب ہو جاتا ہے اور یہاں پہنچ کرنا کام ہونے والے کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی زینہ کے سرے پر پہنچ کر پھسلے اور یہ ظاہر ہے کہ سرے پر پہنچ کر نیچے گر ناسخت نقصان رساں ہوتا ہے۔اگر ہماری جماعت کے دوست اپنے دلوں میں یہ یقین اور ایمان پیدا کریں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم خدا تعالی کی بات پیش کریں اور سننے والا اُسے نہ مانے تو تھوڑے ہی دنوں میں وہ محسوس کریں گے کہ جو اثر دوسروں پر ہو رہا ہے وہ پہلے نہیں تھا۔ضروری ہے کہ پہلے انسان کے اپنے دل میں ہی یقین پیدا ہو تب دوسرے پر بھی اس کا اثر ہو گا۔جب اپنے دل میں ہی یہ یقین ہو کہ دوسرے پر اثر کس طرح ہوگا تو پھر کامیابی کس طرح ہو سکتی ہے؟ کیونکہ یہ عام قاعدہ ہے کہ گیہوں سے گیہوں پیدا ہوتا ہے مٹی کے ڈھیلے سے گیہوں ہرگز پیدا نہیں ہوسکتا۔پس یہ صورت ہے جس سے کامیاب ہونے کے لئے کام لینا چاہئے۔یہ کہنا کہ ہم کامیاب نہیں ہوں گے انکسار نہیں بلکہ جھوٹ ہے۔انکسار یہ ہے کہ لوگوں میں اپنی بڑائی نہ کی جائے یہ نہیں کہ خدا سے بھی یہی کہے کہ تو میرا مددگار نہیں۔ایک دفعہ غالبا پشاور کی جماعت جلسہ سے واپس جارہی تھی ان میں ایک نابینا حافظ صاحب بھی تھے انہوں نے راستہ میں کہا کہ میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ایک شخص احمدی ہو اور رسول کریم علی ہے کے تمام احکام پر ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ اپنے متقی ہونے میں شک کرے۔بعض دوست ان سے لڑ رہے تھے کہ اس طرح کہنا ٹھیک نہیں بندے کو ہمیشہ انکساری کرنا چاہئے اور خدا سے ڈرنا چاہئے۔اس مجلس میں ایک عالم بھی بیٹھے تھے ان سے اس مسئلہ میں فیصلہ کے لئے کہا گیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ میرے نزدیک ایسا کہنا کبر ہے۔حافظ صاحب نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے آپ کو متقی نہیں کہتے انہوں نے کہا میں تو