خطبات محمود (جلد 12) — Page 498
خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۰ء ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر میں مارا گیا تو مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور اگر ساری دنیا کی بادشاہت بھی اس کی قوم کے ہاتھ میں آجائے تو اسے کیا فائدہ لیکن پھر بھی قومی مفاد کیلئے اس کا لڑائی پر جانا ضروری ہوتا ہے۔پھر بعض کام ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے خاص طور پر قومی فائدہ ملحوظ نہیں ہوتا مگر قوم کو بھی اس سے فائدہ پہنچ ضرور جاتا ہے۔مثلاً ایک موجد ہے وہ اس لئے ایجاد کے لئے محنت کرتا ہے کہ عزت حاصل ہو رتبہ ملے اور بنی نوع کو فائدہ پہنچے لیکن جب اس کے نام کی شہرت ہوتی ہے تو ساتھ ہی اس کے ملک اور قوم کی بھی شہرت ہو جاتی ہے۔پس ہر کام کے دو انجام ہوتے ہیں ذاتی اور قومی۔اور اصل اور حقیقی فائدہ وہی ہے جو قومی ہو۔اس لئے ملک یوم الدین کے بعد فرمایا۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔کیونکہ اصل نتیجہ وہی ہے جو قوم سے تعلق رکھتا ہو اور اسی لئے یہاں مفرد کا نہیں بلکہ جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے اور اس سے یہ بتایا کہ ایسے نتائج جو بہ حیثیت مجموعی نکلتے ہیں وہ بھی ہم نکالتے ہیں مگر ضروری ہے کہ بندہ یقین رکھے۔ملک یوم الدین کا تعلق ایمان سے ہے کیونکہ غیب میں رہنے والی چیز کے لئے عمل نہیں ایمان ہی ہوتا ہے۔پس دو کام خدا تعالیٰ نے بندے کے رکھے ہیں کہ محنت کرے اور یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالٰی ضائع نہیں کرے گا اور چار اپنے بنائے ہیں۔ربوبیت' رحمانیت' رحیمیت اور صفات کاملہ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں قوم کو بڑھانا اور معزز بنانا۔لیکن دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو محض اس وجہ سے ناکام رہتے ہیں کہ اپنی قابلیتوں کا انکار کر دیتے ہیں۔بعض اہلِ فن خود اپنے پیشوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ایک وکیل کبھی یہ بات نہیں کہے گا کہ مجھ سے قابلیت میں کوئی بڑھا ہوا ہے وہ یہی کہے گا کہ قسمت کی بات ہے فلاں کو روپیہ زیادہ مل گیا لیکن قابلیت میں وہ میرا مقابلہ ہر گز نہیں کر سکتا۔لیکن بعض قو میں ایسی بھی ہیں جو خود اپنی قابلیتوں کا انکار کرتی ہیں۔اگر کسی سانسی یا چوہڑے سے کہو کہ تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے ایک برہمن تو وہ فورا کہہ اُٹھے گا کہ نہیں جی ہم ان کا مقابلہ کہاں کر سکتے نہیں خدا نے انہیں معزز پیدا کیا ہے۔اور چونکہ وہ اپنی قابلیت کا انکار کر دیتے ہیں اس لئے ناکام ہی رہتے ہیں۔ہماری جماعت کے بھی بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں کہا جائے کہ تبلیغ کرو تو وہ کہہ دیتے ہیں ہم میں قابلیت نہیں یا پھر یہ کہ ہماری سنتا کوئی نہیں۔پھر بعض لوگ دنیا میں ایسے بھی ملتے ہیں جو رحمانیت کے منکر ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کس طرح کام شروع کر میں سامان نہیں