خطبات محمود (جلد 12) — Page 482
خطبات محمود ممم سال ۱۹۳۰ء آپ بُرا نہ منائیں۔غرض اس قسم کی حرکات معیوب ہیں ورنہ ان کا حق ہے کہ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اس سے روکنے کا نہ انہیں حق نہ ہم انہیں روکتے ہیں۔ہاں ذاتیات کو درمیان میں لا کر گالیاں دینابُرا ہے۔دیکھو جب کوئی ثابت کر دے کہ رسول اللہ ہے کے بعد نبی نہیں آسکتا تو سمجھنے والے آپ ہی سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے نہیں لیکن اگر کوئی آپ کا نام لے کر کذاب اور جھوٹا کہے گا تو اس سے یقینا ہمارا دل دُکھے گا۔اس دلآزاری اور تکلیف دہی کے راستہ کو چھوڑ کر اپنے عقائد کی تبلیغ کرنے کے باقی سارے رستے کھلے ہیں اور کسی کا حق نہیں کہ کسی سے اپنے عقائد کی تبلیغ نہ کرنے کا مطالبہ کرے اور میں سمجھتا ہوں کہ معقول لوگ اس قسم کا مطالبہ نہیں کر رہے۔بعض لوگ ہیں اور بعض اصلاح کے محتاج ہوتے ہی ہیں ان کی اصلاح ضروری ہے اور ان کی اصلاح اسی طرح ہو گی کہ ہم اتحاد کی کوشش کے ساتھ تبلیغ احمدیت بھی کرتے رہیں تا کہ انہیں اسے برداشت کرنے کی عادت ہو۔کوئی بات برداشت کرنے کی اہلیت مشق سے ہی پیدا ہوا کرتی ہے اور اس بارے میں مشق اسی طرح ہو سکتی ہے کہ دوسرے لوگ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ہم اپنے عقائد کی۔ایک دوسرے کی مجالس میں شامل ہوں اور ایک دوسرے کی رواداری کی داد دیں اپنی باتیں سننے کا ایک دوسرے کو موقع دیا جائے۔اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو پھر دیکھو کتنی جلدی متحدہ امور میں اتحاد ہو سکتا ہے۔پس جن لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ تبلیغ احمدیت نہیں کرنی چاہئے انہوں نے بالکل غلط سمجھا ہے اور میرے منشاء کے خلاف سمجھا ہے ایسے لوگوں کے فعل کو میں کسی طرح پسند نہیں کر سکتا۔میں ڈرتا ہوں کہ ایسی جماعتیں خدا کے عذاب میں گرفتار نہ ہو جائیں کیونکہ سچائی کا چھپا نا کوئی معمولی بات نہیں۔ہمیں خدا کی ذات پر تو کل ہونا چاہئے اگر کوئی دوسروں کی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے ان کے آگے گر جاتا ہے اور پھر بھی وہ اس کو پیتے ہیں تو خدا تعالیٰ اس کی مدد کرے گا۔مجھے پہلے ہی شکایت ہے کہ جماعتیں تبلیغ میں سُست ہیں اور میں کئی بار اس طرف توجہ دلا چکا ہوں پھر کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی صلح کے لئے تبلیغ نہ کی جائے۔تمام جماعتوں کو تبلیغ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہئے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ جس علاقہ کے احمدی اس سال ایک ہزار مرد احمدیت میں داخل کر دیں گے۔(مرد کے ساتھ چونکہ اس کا خاندان بھی احمدیت میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے مردوں کی شرط لگائی گئی ہے ورنہ یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کو احمدیت میں داخل کرنا ضروری نہیں۔