خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 481

خطمات محمود MAI سال ۱۹۳۰ء دیکھتا ہے کہ اس کا نام اسلامی ہے اور یہ مسلمان کہلانے والوں میں سے ہے۔جب مسلمانوں کا کوئی سوال ہوگا تو یہ مسلمانوں کی طرف ہو گا اس لئے وہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔اسی لئے میں اس کوشش میں لگا ہوا ہوں کہ سیاسی اور تمدنی اور ملکی مسائل جن میں حیات و وفات مسیح کا تعلق نہیں، نبوت کے جاری رہنے یا بند ہونے کا تعلق نہیں، بلکہ محض مسلمان ہونے کا تعلق ہے ان میں سارے کے سارے مسلمان اکٹھے ہو جا ئیں۔ہم کسی سے یہ نہیں کہتے کہ وفات مسیح کے مسئلہ کو مان لوتب متحدہ مقاصد میں متحد ہوں گے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو تسلیم کر لو پھر ملکی مسائل میں اتحاد ہو گا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ متحدہ اور مشتر کہ امور میں متحد ہو جائیں۔یہ ان لوگوں کی کمزوری ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے اتحاد کیلئے تبلیغ احمدیت نہیں کرنی چاہئے اور جب تک وہ یہ کمزوری دکھائیں گے لوگ ان سے یہی امید رکھیں گے کہ وہ ایسا کریں لیکن جب وہ کہہ دیں گے کہ دُنیوی امور و سیاسی حقوق کے لئے ہم سب سے آگے بڑھ کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور سب سے زیادہ قربانی پر آمادہ ہیں لیکن اگر ہم سے دین کی قربانی چاہی جائے گی تو ہمارا راستہ اور ہے اور تمہارا اور۔هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ - اتحاد کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تضحیک نہ کی جائے استہزاء نہ کیا جائے گالی گلوچ نہ کی جائے لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ذاتی حملے کئے جائیں اور ہمارا دل دُکھانے کے لئے کئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کے دل بغض سے بھرے ہوئے ہیں اور وہ لڑنا چاہتے ہیں۔ابھی شملہ میں تین آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آئے ان کے آنے کی اطلاع پر میں ان سے ملنے کے لئے باہر آ گیا۔ان میں سے ایک نے پہلی بات جو کی وہ یہ تھی کہ یہ کونسا اسلامی طریق ہے کہ آپ اندر بیٹھے رہیں اور لوگ باہر انتظار کریں۔اس کے بعد دوسرے نے کوئی اور بات شروع کی تو پہلے نے اس کی بات کاٹ کر کہا یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح لوگ نبوت کا جھوٹا دعوی کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔نوکری کرتے کرتے جب اس کے قابل نہیں رہتے تو نبوت کا دعویٰ کر دیتے ہیں۔میں نے کہا آپ خود اس انسان کی سچائی کے گواہ ہیں جس کی نسبت اس قسم کے الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔آپ کسی اور جماعت کے امام کے پاس جا کر اس طرح نہیں کہہ سکتے لیکن میرے سامنے کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں نے اس کا جواب نہیں دینا۔غرض ان صاحب نے اس قسم کی باتیں کیں کہ ان کے ساتھی کو دو دفعہ کہنا پڑا ان کی طبیعت میں جوش بہت ہے