خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 474

خطبات محمود ۴۷۴ سال ۱۹۳۰ء مسلمان اور گورنمنٹ اپنی ذمہ داری محسوس نہ کریں گے۔مسلمانوں کو پوری مستعدی سے کھرے ہو کر اپنے بھائیوں کی امداد کرنی چاہئے پھر دیکھو کتنی جلدی یہ حالت بدل جاتی ہے۔اگر تمام ہندوستان کے مسلمان یہ سمجھیں کہ ڈھا کہ اور حصار کے مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچی بلکہ ہمیں پہنچی ہے ان پر ظلم نہیں ہوا بلکہ ہم پر ہوا ہے تو دو تین ماہ کے اندر اندر ہی امن قائم ہو سکتا ہے۔ہندو جس دن یہ سمجھ لیں گے کہ ان کمزور مسلمانوں کے بھی ہمد رو موجود ہیں اور ان کے لئے بھی کسی کے دل میں غیرت اور جوش پیدا ہو سکتا ہے تو معا ہوش آ جائے گا اور عقل ٹھکانے آ جائے گی۔پس اگر مسلمان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اپنے بھائیوں کا درد اپنے دل میں پیدا کریں۔میں جہاں اپنی جماعت کو اس بات کی تلقین کرتا ہوں کہ وہ بختی سے اپنے امتیازات کو قائم رکھے وہاں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس امر میں بھی دوسروں کے لئے نمونہ ہے کہ مذہبی عقائد کے اختلاف کے باوجود دنیوی اتحاد ہو سکتا ہے۔احمدیوں کو چاہئے کہ دوسروں کو اس بارہ میں سبق دیں اگر کسی مسلمان پر مصیبت آئے تو وہ سمجھیں اُس پر نہیں، یہ مصیبت ہم پر آئی ہے۔اگر ہر جگہ حنفیوں کی مدد کے لئے احمدی کھڑے ہوں تو یقیناً حنفیوں کے دلوں میں بھی غیرت اور بیداری پیدا ہوگی اور ایک نہ ایک دن وہ بھی ضرور اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھیں گے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہمارا کام تبلیغ ہے اور اگر اس میں کوئی روک پیدا ہو تو ہم اور سب کچھ ترک کر دیں گے اور اسی طرف لگ جائیں گے لیکن بعض کام ایسے ہیں جو اس میں روک نہیں بلکہ محمد ہیں۔اگر یہی حالت رہی تو ملک میں شورش اور بھی بڑھے گی اور اگر فسادات اسی طرح جاری رہے تو تبلیغ کے رستے بھی رُک جائیں گے۔پس اس وقت ملک سے فساد دور کرنا اور امن قائم کرنا تبلیغ کا حصہ ہے۔یہ تو نا جائز ہے کہ تبلیغ کو چھوڑ کر ہم اسی میں لگ جائیں لیکن اگر ایک حد تک یہ کام بھی ساتھ ساتھ کرتے جائیں تو ضرور ہمارے لئے مفید ہی ہوگا۔جس قوم پر مُردنی چھا جاتی ہے وہ مذہب کی طرف بھی کم توجہ کیا کرتی ہے۔ہندو جوں جوں طاقت میں بڑھتے جاتے ہیں مذہب میں بھی پکے ہوتے جاتے ہیں لیکن مسلمان کمزوری کے ساتھ ساتھ مذہب سے بھی غافل ہو رہے ہیں۔انتہائی درجہ کی فکر بھی انسان کو بے ایمان بنا دیتی ہے جیسے انتہائی درجہ کی راحت بنا دیتی ہے۔میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ عملی طور پر مسلمانوں کے مصائب میں ان