خطبات محمود (جلد 12) — Page 473
خطبات محمود سم سال ۱۹۳۰ء قتل و خون ریزی پر زور دیں گے۔لیکن اگر گلے کاٹنے میں ان کی قوم کا فائدہ ہو تو وہ منہ دوسری طرف پھیر لیں گے اور کہہ دیں گے جاؤ اگر تم گلے کاٹتے ہو تو کاٹتے پھرو۔مسلمانوں میں صرف لیڈری کا شوق ہے۔اس میں شک نہیں کہ تھوڑے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے دل میں درد ہے اور کام کرنا چاہتے ہیں۔ایسے لوگ تو بہت سے ہیں جو کام کر سکتے ہیں اگر پہلے لیڈروں کو پھانسی دے دی جائے تو وہ فوراً آگے آجائیں گے لیکن جب تک لیڈری نہیں ملتی وہ میدان میں کبھی نہیں آئیں گے اور جب تک لیڈری کا شوق ترک کر کے مسلمانوں میں کام کرنے والے نہ ہوں گے کامیابی محال ہے۔کا ۱۹۲۷ء میں میں نے تحریک کی تھی کہ ہند و چونکہ مسلمانوں سے کھانے پینے کی چیزیں نہیں خرید تے اس لئے جب تک ہندو ان سے نہ خریدیں وہ بھی ان اشیاء کا ان سے خرید نا بند کر دیں۔مگر مسلمانوں کی نازک حالت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ہندوؤں نے اعلان کر دیا کہ مسلمانوں کی ہستی ہی کیا ہے تم خود ان کو سودا دینا بند کر دو تو یہ کھو کے مر جائیں گے۔گویا وہ حربہ جو ساری دنیا کے لئے فائدہ کا موجب ہو ا کرتا ہے مسلمانوں کے لئے وہ بھی موجب نقصان ہوا۔اب ایک طرف تو کانگریسی مسلمان لیڈر شور مچار ہے ہیں کہ مسلمان کانگریس کے ساتھ ہیں لیکن دوسری طرف یہ حالت ہے کہ پرتاپ ۳۔اگست لکھتا ہے ہندو مسلمانوں کی امداد کے پنا سوراجیہ لے سکتے ہیں اور انہوں نے دکھلا دیا ہے کہ وہ لے سکتے ہیں انہیں مسلمانوں کی کیا خوشامد۔گویا وہی بات ہوئی کہ مرغی جان سے گئی اور کھانے والے کو مزا بھی نہ آیا“۔مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی کمزور ہو گئی ہے کہ دوسرے لوگ جس طرح مرضی ہوتی ہے ان سے معاملہ کرتے ہیں۔میں اس معاملہ میں حکومت کو بھی بری نہیں سمجھتا اس کا فرض تھا کہ دو تین ماہ پیشتر واقعات سے پبلک کو آگاہ کر دیتی اور اگر چہ ان واقعات کی قانونی تو نہیں مگر اخلاقی ذمہ داری حکومت پر ضرور ہے کہ اس نے کیوں قبل از وقت لوگوں کو خبر دار نہ کیا اور کیوں ان افسروں کو وہاں سے تبدیل نہ کر دیا جن کی شرکت عملا یا خاموشی سے معلوم ہوتی تھی۔وہاں ہندو افسروں کا جمگھٹا ہے مگر گورنمنٹ نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی۔ضروری تھا کہ پبلک کو بھی آگاہ کر دیا جاتا اور گورنمنٹ خود بھی انتظام کرتی۔ابھی تک بھی وہاں امن قائم نہیں ہوا اور نہیں ہو گا جب تک