خطبات محمود (جلد 12) — Page 298
خطبات محمود ۲۹۸ سال ۱۹۳۰ء خواہ کتنے مصائب آئیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی اور انسان خوشی محسوس کرتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ انسان دعا کرے کہ اس پر تکالیف آئیں بلکہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالی تکالیف برداشت کر کے ہی ملتا ہے تو پھر ہمیں راحت سے ان تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے۔یہ تو ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ زندہ رہے اور بادشاہ تک پہنچے لیکن اگر مرنا ہی پڑے تو مر جاتا ہے۔طالب علموں کو ہائی سکول میں ایک ریڈر پڑھائی جاتی ہے جس میں ایک نظم ہے اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بادشاہ کی خوشنودی کے لئے لوگ کس طرح تکالیف اُٹھاتے ہیں۔فرانسیسی فوج ایک قلعہ پر قبضہ کرنے کے لئے کوشش کر رہی تھی اور نپولین کھڑا دیکھ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ اگر ہمیں فتح نہ ہوئی تو کس قدر عظیم الشان نقصان ہو گا۔اتنے میں ایک سپاہی دوڑتا ہوا آیا اور اسے بشارت دی کہ قلعہ فتح ہو گیا لیکن اس نے خیال نہ کیا اور اور سوالات پوچھتا رہا اتنے میں اس نے دیکھا کہ سپاہی کے پہلو سے گولی نکل گئی ہے۔یہ دیکھ کر اس نے کہا دیکھو تمہارے گولی لگی ہے اور خون بہہ رہا ہے۔سپاہی اس جوش میں تھا کہ بادشاہ تک یہ خبر پہنچا دوں اور محض اس نگاہ کے لئے کہ بادشاہ اس گولی کو دیکھ لے جو اس نے اس کے لئے کھائی ہے زخمی ہونے کی حالت میں دوڑا ہوا گیا تھا ورنہ ایسی حالت میں تو اُٹھا بھی نہ جاتا۔تو انسان اپنی محبوب ہستی کی خوشنودی کے لئے ہر تکلیف کو بخوشی برداشت کر لیتا ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا ہمیں یقین ہے تو ہر اس تکلیف کو جو اس کے راستہ میں پہنچے بخوشی برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔دوسری چیز جس کا اقرار اس آیت میں ہے یہ ہے کہ اس راستہ پر چلنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم کہتے اے خدا تیرا بڑا احسان ہے کہ تو نے ہمیں راستہ بتا دیا اب ہم اس پر چلتے ہیں مگر نہیں ہم یہ نہیں کہتے بلکہ کہتے نہیں کہ تو نے راستہ دکھا دیا اب اس پر ہمیں لے بھی چل۔گویا وہی مثل ہوئی کہ لاد دے لدوادے اور لادنے والا ساتھ دے“۔یعنی چیز بھی دے اور اسے جانور پر بھی رکھ دے اور ساتھ آدمی بھی دے تا اگر رستہ میں ضرورت پیش آئے تو وہ لاد سکے۔تو اھدنا میں ہم یہ مانتے ہیں کہ راستہ کا دکھانا اور اس پر چلانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے پہلی بات یعنی راستہ دکھانا انبیاء کا کام اور اس طرح ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کا سلسلہ جاری ہے۔یہ ماننے کے بعد ہمارے دل میں خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت مل جائے اور اس کا ہم سے ایسا معاملہ ہو کہ اس کے کلام کے ذریعہ سے ہمیں یقین واثق ہو جائے۔