خطبات محمود (جلد 12) — Page 299
خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۰ د حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہام کے لئے اصرار کرنا نا پسند فرمایا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ الہام اپنی ذات میں ناپسندیدہ چیز ہے۔شریعت نے استخارہ کا حکم دیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے خدا! تو اس کام میں ہماری راہنمائی کر خواہ اور تعبیری الہام سے ہو خواہ وحی خفی سے ہو اور خواہ کشفی نظارہ ہو تو ہماری راہنمائی کر۔پس معلوم ہوا کہ صرف نبوت یا مأموریت کی خواہش نا جائز ہے لیکن یہ خواہش که خدا تعالی براہِ راست را ہنمائی کرے یہ نا جائز نہیں۔گویا اگر الہام کے لئے کوئی قید نہ لگائی جائے تو یہ جائز ہے۔پس جب ہم یہ دعا کرتے ہیں تو سوچنا چاہئے کتنے ہیں جن کے اندر یہ تڑپ ہوتی ہے کہ خدا تعالی کی طرف سے براہِ راست اور کسی انسانی واسطہ کے بغیر ہمیں ہدایت حاصل ہو۔جب اپنے اندر اس بات کی خواہش نہ ہو تو خدا تعالیٰ کیوں یہ نعمت دے گا۔وہ بادشاہ ہے اور صرف خواہش کرنے کے بعد ہی متوجہ ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔انبیاء اور ان کے قائم مقاموں سے بھی اسی وقت فیض حاصل ہو سکتا ہے جب ان سے براہ راست ذاتی تعلق پیدا ہو۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تاکید فرمایا کرتے تھے کہ بار بار ملتے رہنا چاہئے اور میں بھی یہ نصیحت کرتا رہتا ہوں۔اگر چہ دل ڈرتا بھی ہے کیونکہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ ہر ایک سے ذاتی طور پر واقفیت رکھنا آسان نہیں۔مگر یہ صحیح ہے کہ جب تک تعلق نہ ہو اور تعلق بھی متعلم ہونے کا ہو یہ نہیں کہ آئے بیٹھے اور باتیں کیں اور سب کچھ وہیں جھاڑ کر چلے گئے۔چکنے گھڑے کی طرح نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ نیت ہو کہ شاگرد کی طرح کچھ حاصل کرنا اور پھر اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔اور یا د رکھنا چاہئے کہ فائدہ عمل کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔ساری باتوں پر عمل کرنا تو مشکل ہے لیکن کم از کم نیست یہ ضرور ہونی چاہئے کہ فائدہ اٹھانا ہے۔تو براہ راست تعلق کے بغیر فیضان حقیقی حاصل نہیں ہو سکتا اور اگر یہ تاپ موجود نہیں تو بتا ؤ اس دعا کا فائدہ کیا ہوا۔دوسری چیز جو اس میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عمل کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ اھدنا کے معنے دکھانا بھی ہیں اور چلانا بھی۔گویا ہر عمل کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے گی۔اس میں تاتی ضروری ہوگی اور جوش میں کام نہیں کیا جائے گا۔اور دنیا میں بہت سی خرابیاں اندھا دھند کام کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر انسان کام سے پہلے سوچ -