خطبات محمود (جلد 12) — Page 297
خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۰ء جاتا یا اگر لندن یا پیرس یا کسی اور ملک کا ذکر ہوتا تو راستہ بھی وہیں کا ہوتا اور اگر تجارت یا زراعت کا ذکر ہوتا تو ہم کہتے راستہ سے مراد اُسی کا راستہ ہے لیکن چونکہ اوپر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اس لئے لازماً راستہ سے مراد بھی اسی کا راستہ ہے کیونکہ سب سے مقدم یہاں وہی چیز ہے جس کا ذکر پہلے آیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔پس جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں تو گویا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ موجود ہے۔اب سوچو کہ اس شخص کے مقابلہ میں جو بادشاہ تک پہنچنے کی موہوم اُمید میں اپنی جان کھو دیتا ہے ہماری کوششیں کتنی بڑی ہونی چاہئیں۔اگر واقعی دل میں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ مل سکتا ہے تو دیکھو تمہارے دل میں اس سے ملنے کے لئے کتنی تڑپ ہے۔جو خص منہ ہے تو یہ اقرار کرتا ہے لیکن اس کے لئے کوشش نہیں کرتا اور ہمیشہ یہی دعا کرتا رہتا ہے کہ میرے ہاں بچہ ہو جائداد اور ورثہ کے مقدمہ میں مجھے فتح ہو تجارت چل نکلے بارش پڑے تا کھیتی ہو جائے میرا دشمن زیر ہو جائے اور خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے کوئی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی تو صاف پتہ لگ گیا کہ یہ اقرار صرف منہ کا اقرار ہے کیونکہ جن کو یقین ہوتا ہے وہ کوشش بھی ضرور کرتے ہیں اور اسے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ایک ضرب المثل ہے نو نقد نہ تیرہ اُدھار " یعنی اُدھار کا چونکہ یقین نہیں ہوتا اس لئے خواہ وہ زیادہ ہی ہوا سے چھوڑ کر تھوڑے نقد کو لینا بہتر ہے۔پس جس شخص کے دل میں خدا تعالی کی ملاقات کا یقین نہ ہو وہ با وجود خیال ہونے کے دنیا کو مقدم کر دے گا کیونکہ یہ اسے نظر آتی ہے۔جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔ایہہ جہان مٹھا۔اگلا کن ڈٹھا۔یعنی یہ جہان اور اس کی لذات تو نظر آتی ہیں لیکن اگلے جہان پر شبہ ہے اور محبہ پر یقین کو کوئی قربان نہیں کیا کرتا۔لیکن جو شخص منہ سے کہتا ہے اھدِنَا وہ اقرار کرتا ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ پر پورا یقین ہے اور جسے یہ یقین ہو وہ دنیا کی کسی چیز کو اس پر قربان نہیں کرے گا۔اسے خواہ آگ میں ڈال دیا جائے خواہ بھوکا اور پیاسا رکھا جائے اس کے جسم کو خواہ کتنی بھی تکلیف پہنچائی جائے لیکن اس کی روح لذت سے بھری ہوئی ہوگی کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کر رہا ہوں۔اور اگر کسی وقت وہ اس تکلیف کو بوجھل محسوس کرے تو وہ وہی وقت ہو سکتا ہے جب اسے خدا سے ملنے کا شک پیدا ہو گیا ہو گا کیونکہ اگر یقین ہوگا تو وہ کسی تکلیف کی بھی پرواہ نہیں کرے گا اور یہی کہے گا کیا ہوا اگر مجھے تکالیف پہنچتی ہیں جبکہ میں خدا سے ملنے والا ہوں۔غرض جب انسان کے دل میں یقین ہو تو اس کا نقطہ نگاہ بالکل بدل جاتا ہے۔اُس وقت