خطبات محمود (جلد 12) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۳۰ء۔صراط مستقیم دنیا میں موجود ہے کیونکہ اگر موجود نہ ہو تو مانگ کس طرح سکتے ہیں۔عظمند انسان وہی چیز مانگتا ہے جس کا اسے یقین ہو کہ دنیا میں موجود ہے۔جو چیز میسر ہی نہ آ سکے کوئی ہوش وجو اس رکھنے والا انسان اس کے لئے دعا نہیں کیا کرتا۔تو یہ دعا کر کے ہم گویا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ واقعی کوئی ایسی راہ موجود ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتی ہے۔یہ اقرار معمولی نہیں۔اگر واقعی دل میں یہ خیال راسخ ہو کہ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے تو زندگی کا نقشہ ہی بالکل بدل جائے۔جن باتوں کے متعلق انسان کو یقین ہو کہ اسے مل سکتی ہیں ان کے لئے وہ اور ہی رنگ میں جد و جہد کرتا ہے اور وہ باتیں ہر وقت اور تمام کاموں میں اس کے مد نظر رہتی ہیں اور کسی وقت بھی وہ ان کو نہیں بھولتا۔پس اگر یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ مل سکتا ہے اور اس کے ملنے کے ذرائع گھلے ہیں تو یہ بھی صاف ہے کہ دنیا کی اور کوئی چیز اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی۔جسے خدامل جائے اسے بھلا اور کیا چاہئے۔دنیا کے سارے عذاب اس کے لئے بیچ ہیں۔دنیا میں لوگ بادشاہوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جانیں تک دے دیتے ہیں حالانکہ ان کی خوشنودی کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اگر ایک انسان مارا جائے اور اس کے بعد بادشاہ واہ واہ کہہ بھی دے تو مرنے والے کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔مگر باوجود اس کے بادشاہ سے جو تعلق اور محبت لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے لوگ جانیں دے دیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں اگر زندگی میں ہمارا نام بادشاہ تک نہیں پہنچ سکا تو شاید موت کی خبر ہی اسے پہنچ جائے اور وہ خوش ہو جائے۔اسی خیال کے ماتحت لڑائی میں جاتے ہیں اور گولی یا تلوار سے مرجاتے ہیں آگے ان کا معاملہ خدا سے ہوتا ہے خواہ جہنم میں ڈالے یا جنت میں۔مگر محض اس لئے کہ ان کا نام بادشاہ تک پہنچ جائے وہ جان دے دیتے ہیں یا پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر بیچ رہے تو شاید اس جان شاری کے عوض میں کبھی بادشاہ تک پہنچ جائیں اور اس امید موہوم کی وجہ سے ہی وہ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں۔بسا اوقات ایسے لوگ مر جاتے ہیں لیکن ایک سپاہی خواہ وہ کتنے ہی اخلاص سے کیوں نہ جان دے بادشاہ سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا کیونکہ بادشاہ کی طاقت میں یہ بات نہیں کہ اگلے جہان میں جا کر اسے مل سکے اور کچھ دے سکے۔چونکہ اس آیت سے قبل اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے اس لئے صاف معلوم ہوتا کہ صراط مستقیم میں خدا تعالی کا راستہ ہی مانگا جا رہا ہے۔اگر او پر مکہ مدینہ کا ذکر ہوتا تو یہ راستہ بھی مکہ مدینہ کا ہی سمجھا