خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 274

خطبات محمود ۲۵ سال ۱۹۳۰ء الگ الگ ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو غذا کی محتاج نہیں کیونکہ اسے فنا نہیں۔ہر فنا ہونے والے کے لئے بدل مَا يَتَحَلَّل ضروری ہے۔تو روزہ کے دنوں میں غذا سے ایک حد تک اجتناب اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کر دیتا ہے۔غذا کم ہونے سے انسان کی روحانی بصیرت تیز ہوتی ہے۔روحانی وجودوں کی غذا ئیں چونکہ لطیف تر ہوتی ہیں اس لئے وہ رویتِ الہی کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رویتِ الہی کا کمال مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں غذ الطیف ہوگی جس سے روحانی بصیرت بڑھ جاتی ہے۔ملائکہ کی جسمانی آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن ان کی روحانی بینائی انسان کی نسبت بہت تیز ہوتی ہے۔تو رمضان سے انسان کی روحانی تربیت مکمل ہوتی ہے جس سے اس کی روحانی بصیرت تیز ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے ایسے فیوض جذب کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جن کو وہ رمضان کے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔رمضان ہی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے سوال کریں خدا کہاں ہے تو تو کہہ دے میں قریب ہی ہوں لے یوں تو ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور پھر جو بندہ اسے پکارتا ہے وہ تو اسے پہلے ہی مانتا ہے پھر یہاں سالک کا کیا مطلب ہوا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جب میرا بندہ رمضان کے متعلق سوال کرتا ہے کہ روزے سے خدا کی رضاء کس طرح حاصل ہوسکتی ہے تو اس کا جواب یہ دے کہ روزہ سے انسان خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے جس کی ظاہری صورت یہ ہے کہ روزہ دار کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں اُجِيْبُ دَعْوَةِ الدَّاعِينَ نہیں فرمایا بلکہ صرف الدّاعِ فرمایا جس کے معنے ہیں کہ ہر پکارنے والے کی نہیں بلکہ روزہ دار پکار نے والے کی دُعاسنی جاتی ہے۔پس رمضان کی ایک برکت تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اور ملائکہ سے مشابہت پیدا ہوتی ہے دوسرے خدا تعالیٰ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے اور تیسرے یہ کہ دعا ئیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔یہ تو روحانی فوائد ہیں اور جسمانی طور پر یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان تکالیف اور شدائد کا عادی ہو جاتا ہے۔جسمانی ترقیات بھی روحانی ترقیات کی طرح مجاہدات پر مبنی ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہذب حکومتیں جو فو جیں رکھتی ہیں ان کے سپاہیوں سے با قاعدہ پریڈ کراتی رہتی ہیں جس سے ان کے اندر شدت پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالٰی سے گہرے تعلقات رکھنے والے لوگوں کی غذا ئیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں یعنی وہ اپنے