خطبات محمود (جلد 12) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۰ء ہی جیسے سامان حالات، صحت اور معدے رکھنے والے انسانوں سے کم خوراک کھاتے ہیں۔یہ نہیں کہ اگر ایک انسان کا معدہ خراب ہو اور وہ زیادہ نہ کھا سکے تو کہا جائے اس میں روحانیت زیادہ ہے کیونکہ شرط یہ ہے کہ دوسرے سامان بھی ایک ہی جیسے ہوں ایک ہی حالت میں وہ انسان جس میں روحانیت ہو گی دوسرے سے کم کھائے گا۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مومن ایک انتری سے کھاتا ہے تو کا فر دس انتریوں سے سے خود رسول کریم ﷺ کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی غذا بہت کم تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے آپ بمشکل ایک پھل کا کھاتے تھے۔یہ نہیں کہ بھوکے رہ کر ایسا کرتے تھے بلکہ آہستہ آہستہ رغبت سے استغناء پیدا ہوتے ہوتے یہ عادت ہو گئی تھی اور توجہ اور خیالات کی رو کے اس طرف سے ہٹ جانے سے آہستہ آہستہ کھانا بہت قلیل رہ گیا تھا۔لیکن جو لوگ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر نہیں ہوتے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا تصرف غالب نہیں ہوتا ان کو کبھی کبھی اس کی مشق کرائی جاتی ہے جیسے ایک باقاعدہ فوج ہوتی ہے اور ایک ٹیریٹوریل (TERRITORIAL) جسے سال میں صرف ایک مہینہ کی مشق کرائی جاتی ہے۔پاک رمضان ٹیر نیٹوریل فوج کی ٹریننگ کی طرح ہے وگر نہ عام طور پر روحانی لوگوں کی غذا کم ہوتی ہے اور وہ اتنا کم کھاتے ہیں کہ نفس موٹا نہ ہو جائے اور جسم پر چربی چھا کر روحانیت میں روک نہ پیدا کر سکے۔لیکن جو لوگ اس مقام پر نہیں ہوتے وہ بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے بند ہیں اور ان کی اصلاح بھی اس کے ذمہ ہے اس لئے ان کو ٹیریٹوریل (TERRITORIAL) کی طرح رمضان میں مشق کرائی جاتی ہے تا وہ بھی روحانی ترقی کر سکیں۔روزه اگر چہ روحانی مجاہدہ ہے مگر ساتھ ہی جسمانی فوائد بھی رکھتا ہے کیونکہ کئی ایک زہر اس سے انسانی جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور کئی بیماریاں موٹاپے وغیرہ کی دُور ہو جاتی ہیں اور اب تو ڈاکٹروں نے تحقیقات سے معلوم کیا ہے کہ روزہ ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔اور ذیا بیطس کے مریضوں کو قریباً چالیس یوم کے روزے رکھوائے جاتے ہیں۔کئی ایک مریضوں نے خود مجھے بتایا ہے کہ اس طرح ان کا مرض دور ہو گیا حتی کہ زخم بھی جو اس مرض کی آخری حالت میں پیدا ہو جایا کرتے ہیں اچھے ہو گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ میں جسمانی طور پر بھی فوائد ہیں۔روحانی اور جسمانی دونوں مجاہدات کے علاوہ پھر ایک اور مجاہدہ ہوتا -