خطبات محمود (جلد 12) — Page 273
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ہے۔آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں عارضی اور مستقل۔ان دونوں حالتوں میں فدیہ دینا چاہئے پھر جب عذر دور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہئے۔غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے لیکن سال دو سال تین سال جب بھی صحت اجازت دے اسے پھر روزہ رکھنا ہوگا سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے۔باقی جو بھی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے ایام میں روزے رکھے۔روزه خودانسان کی اپنی نجات کا موجب اور خود اس کے اپنے فائدہ کے لئے ہے۔یہی نہیں کہ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی وجہ سے اس کے فضلوں کا وراث ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کے اندر ایسی قابلیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو اسے خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں۔پھر جسمانی طور پر بھی اس میں فوائد ہیں انسان کو دنیوی لذائذ سے بچنے کا موقع ملتا ہے گویا یہ ایک قسم کی چلہ کشی ہوتی ہے۔انسان عموما تمیں دن چلہ کشی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ایک حد تک لذائذ سے روکتا ہے اس سے اس میں روحانی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے۔انسان کے لئے حکم ہے کہ وہ اخلاق الہیہ اپنے اندر پیدا کرے اور روزہ رکھنے سے ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کھانے پینے سے گلی طور پر منز ہ ہے لیکن انسان چونکہ کلی طور پر کھانا پینا ترک نہیں کر سکتا اس لئے روزہ سے اسے اس حد تک اللہ تعالیٰ سے مشابہت پیدا کرنے کا موقع دیا گیا ہے جس حد تک اس کے لئے ممکن ہے۔گویا ان دنوں میں انسان ایک رنگ میں ملائکہ سے مشابہ ہوتا ہے جو مادی غذاؤں سے پاک ہیں اور ایک رنگ میں خدا تعالیٰ سے جو کھانے پینے سے بگلی پاک ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ روحانی وجود بھی غذا کے ایسے ہی محتاج ہوتے ہیں جیسے جسمانی کیونکہ اگر وہاں غذا ضروری نہ ہوتی تو جنت میں غذاؤں کا ذکر کیوں آتا جہاں صرف روحیں ہی جائیں گی۔ملائکہ بھی غذا کھاتے ہیں مگر اور قسم کی۔غرضیکہ دنیا کا ہر چھوٹے سے چھوٹا ذرہ اور مرکب سے مرکب چیز بھی اپنے رنگ کی غذا کی محتاج ہے اور تمام مادی اور روحانی اشیاء کے لئے خوراک ضروی ہے لیکن دونوں کی غذا میں فرق ہے۔غذا سے بالکل پاک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے باقی چیزیں جن فرشتے آسمان، زمین، زندے کر دے سب غذاؤں کے محتاج ہیں لیکن ہر ایک کی غذا