خطبات محمود (جلد 12) — Page 228
خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۲۹ء اس فرض کو ادا کر دیتا ہے اور کوئی دکھ اور مصائب کی وجہ سے اس قابل ہو جاتا ہے کہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور سبق حاصل کریں۔گویا کوئی زبان سے وعظ سنا کر دوسروں کا استاد بن جاتا ہے اور کوئی اپنی خوفناک حالت سے دوسروں کی عبرت کا باعث بنتا ہے۔اور یہ بات خدا تعالیٰ نے بندہ کے اختیار میں رکھی ہے کہ چاہے اپنی زبان سے استادی کا فرض ادا کرے اور چاہے تو عذاب میں پڑ کر اپنی حالت سے۔ہوشیار آدمی کا یہ کام ہے کہ زبان سے استاد بننے کی کوشش کرے کیونکہ بہر حال اسے استاد اور شاگرد دونوں ہی بننا تو پڑے گا۔اگر خود نہیں بنے گا تو اللہ تعالیٰ جبر سے بنائے گا اور اس کی یہ حالت ہو جائے گی کہ دوسرے اس سے عبرت حاصل | کریں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا اٹل قانون ہے۔پس مومن کو چاہئے کہ ایسا معلم بننے کی کوشش کرے جو خدا تعالی کے نزدیک پسندیدہ ہو اور اس کے اپنے لئے بھی سکھ کا موجب ہو۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم لوگوں کو توفیق دے کہ اس کے انعامات کے مورد ہو کر دنیا کے معلم بنیں نہ کہ سزا کے مورد ہو کر عبرت کا باعث۔آمین (الفضل ۲۰۔دسمبر ۱۹۲۹ء)