خطبات محمود (جلد 12) — Page 229
خطبات محمود ۲۲۹ ٣١ سال ۱۹۲۹ء ٹھوکر سے بچنے کے لئے ایک لطیف نکتہ فرموده ۲۰۔دسمبر ۱۹۲۹ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسان کا دل جس سے مراد میری اس کی قوت متفکرہ ہے اور جس سے مراد میری وہ باریک تعلق روح کا ہے جو انسانی دل سے روحانی طور پر ثابت ہے۔چونکہ زبان کے محاورہ میں اسے دل کہا جاتا ہے اس لئے ہم زبان کے محاورہ کے لحاظ سے اسی طرح کلام کرنے پر مجبور ہیں خواہ یہ سائنس کے انکشاف کے خلاف ہی ہو۔زبان کے محاورات یا اصطلاحات کا تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا۔کیونکہ ایسا کرنے سے بسا اوقات انسان کے خیالات متفرق و متشقت ہو جاتے ہیں۔لوگ ایک خاص لفظ کو ایک خاص مفہوم میں سننے کے عادی ہوتے ہیں اور جب اس کے خلاف بیان کیا جائے تو انہیں دھوکا لگ جاتا ہے۔پس میں اس بحث میں پڑنے کے بغیر کہ قوت متفکرہ کا تعلق دل سے ہے یا دماغ سے محاورہ زبان کے مطابق چونکہ انسانی فکر کے لئے دل کا لفظ ہی بولا جاتا ہے اس لئے میں بھی یہی لفظ استعمال کروں گا۔تو انسانی دل یعنی جسم کا وہ حصہ جو مختلف قسم کے امور کے متعلق غور کرتا ہے یا نیکی اور بدی میں شناخت کرتا ہے اچھے بُرے اثرات قبول کرتا ہے یا وہ حصہ جس کے ساتھ اس کی روح کا تعلق ہے اور جس کے ذریعہ وہ اپنے منشاء کو پورا کرایا کرتی ہے اس کے متعلق عام طور پر لوگوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی قسم کی خاصیت رکھنے والی چیز ہے۔مثلاً جیسے کو نین کا لفظ بولنے سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ ایک مفرد چیز ہے۔اسی طرح جب دل یا دماغ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اسے بھی عام طور پر لوگ ایک مفرد چیز خیال کر لیتے ہیں اور