خطبات محمود (جلد 12) — Page 162
خطبات محمود TYP سال ۱۹۲۹ء اپنے مذہب میں انصاف کی تعلیم بتاتے ہیں تو یہ غلط ہو گا کیونکہ جب اس مذہب کی تفصیل میں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خداوند خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو جو بالکل بے گناہ تھا لوگوں کے گناہوں کے بدلے قربان کر دیا۔یہ بات تفصیل کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہو گی یوں نہ ہوگی۔اسی طرح اگر کسی عیسائی سے پوچھو کہ یسوع مسیح کے حواری کیسے تھے؟ تو وہ کہے گا بڑے نیک بڑے اعلیٰ پایہ کے اور یسوع مسیح کے بڑے جان نثار تھے۔یہ سن کر اگر کہا جائے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کے حواریوں نے ان سے دھوکا کیا اور مصیبت کے وقت غداری کی غلط کہتے ہیں۔تو یہ کہنے والے کی غلطی ہوگی کیونکہ جب تفصیل میں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ ایک بڑے مقرب حواری پطرس نے ایک رات میں مرغ کے اذان دینے سے پہلے پہلے تین دفعہ حضرت مسیح کا انکار کیا اور بہت سخت الفاظ استعمال کئے۔اسی طرح اگر پوچھو انجیل سے پتہ لگتا ہے کہ یسوع مسیح اور ان کے حواریوں نے کسی کا مال ناجائز طور پر کھایا ؟ تو عیسائی کہیں گے تو بہ تو بہ یہ بالکل غلط ہے۔لیکن جب انجیل پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ یسوع مسیح اور ان کے حواری ایک کھیت میں سے گذرے جس میں سے دانے کھاتے گئے۔ہم چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں اس لئے ایسی باتوں کو غلط سمجھتے ہیں مگر انجیل یہ کہتی ہے خواہ عیسائی زبانی طور پر نہ مانیں۔اسی طرح اگر کسی عیسائی سے پوچھو کہ یسوع مسیح گالیاں دیا کرتے تھے؟ تو وہ قطعاً انکار کرے گا۔مگر جب انجیل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا انہوں نے اپنے مخالفوں کو حرامکار اور بدکار وغیرہ کہا ہے۔تو کسی بات کی حقیقت کا پتہ تفصیل سے لگتا ہے زبانی خلاصہ جو سنایا جائے اس سے اصلیت معلوم نہیں ہو سکتی۔بہائیوں کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔وہ زبانی بتائیں گے عورتوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئے لوگوں سے محبت اور پیار سے پیش آنا چاہئے، ان کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اس قسم کی باتیں سننے والا کہے گا کیا اچھی اور کتنی اعلیٰ تعلیم ہے۔لیکن جب ان کی کتابیں پڑھو گے تو معلوم ہو گا باب سے ایک شخص نے کوئی مسئلہ پوچھا تو اس نے اسے سونٹا مارا۔یہ بات کسی مخالف کی لکھی ہوئی نہیں ان کے اپنے مرید کی لکھی ہوئی ہے اور اسے بطور تعریف اس نے پیش کیا ہے کہ ایک دفعہ باب کو ایسا جلال آیا کہ انہوں نے سونٹا دے مارا۔اسی طرح وہ یوں تو نہیں کہتے کہ محرمات سے نکاح جائز ہے لیکن جب اس کے متعلق ان کے تفصیلی احکام دیکھو گے تو معلوم ہو گا کہ سوائے ماں کے اور کسی کو محرمات میں سے قرار نہیں دیا گیا۔غرض