خطبات محمود (جلد 12) — Page 163
خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۲۹ء تفاصیل سے حقیقت کا علم ہو سکتا ہے مگر بہائی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی ان کے مذہب کی تفصیلات سے آگاہ نہ ہو سکے۔اور وہ اپنی کتب جن پر اس مذہب کی بنیاد ہے چھپائے رکھتے ہیں۔دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی مذہبی کتب کو ان کی طرح چھپائے۔عیسائی انجیل کو بڑی کثرت کے ساتھ پھیلاتے ہیں۔ہندو ویدوں کے پڑھنے سے غیر ہندوؤں کو منع کرتے ہیں مگر انہوں نے ویدوں کو چھپایا ہوا نہیں اور آریہ تو کھلے طور پر ان کے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر بہائی اپنی مذہبی کتب کو چھپاتے ہیں۔اس وجہ سے ان کی کتابوں کا مہیا ہونا مشکل ہے اور یہاں تو اور بھی مشکل ہے کیونکہ علم بہت کم ہے۔کوئی اپنی لائبریری نہیں۔ہمیں بھی ان لوگوں کی کتب مہیا کرنے میں دکھنیں پیش آئی تھیں۔جب ۱۹۲۴ء میں قادیان میں یہ فتنہ پیدا ہوا اور ایک شخص نے جو خفی طور پر بہائی تھا اوروں کے عقائد بگاڑنے چاہے تو اس وقت ہم نے بہائیوں کو بڑی بڑی رقمیں پیش کیں مگر انہوں نے کتابیں نہ دیں۔آخر ہم نے ہندوستان سے باہر کے علاقوں سے تلاش کرائیں اور اب ان کی قریباً ساری کتابیں جمع کرلی ہیں : ایک کتاب جسے مخفی رکھنے کی خاص کوشش کرتے ہیں اور جو باب کی کتاب البیان فارسی ہے اس میں بہائیوں کے خلاف بہت کچھ مسالا ہے۔جب میں ولایت گیا تو بہائیوں کی حالت دیکھنے کے لئے بہجہ بھی گیا وہاں سے وہ کتاب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل گئی۔مجھے معلوم ہوا ہے یہاں ایک شخص کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلہ میں بہاء اللہ کو پیش کیا جاتا اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے بہت ترقی کر رہے اور بڑی طاقت حاصل کر رہے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ میں احمدیت کے مقابلہ میں وہ کامیاب ہو جائیں گے حتی کہ کہا گیا ہے بہائی احمدیوں سے مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ قادیانیت بہائیت کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے گی حالانکہ احمدیت کے مقابلہ میں بہائیت کی حقیقت نہایت آسانی کے ساتھ معلوم کی جاسکتی ہے۔ایک موٹی سی بات ہے اور وہ یہ کہ بہائیت قریباً پچاس ساٹھ سال سے شام میں قائم ہے جہاں ان کا مرکز ہے وہاں میں ہو آیا ہوں۔بہائی عہ کو جو شام میں واقع ہے اپنا مرکز قرار دیتے ہیں مگر دراصل ان کا یہ مرکز نہیں یہ صرف بائیبل کی چند پیشگوئیاں اس مقام کے متعلق بتانے کے لئے مرکز قرار دیا جاتا ہے۔دراصل ایک مقام ہجہ ہے جہاں یہ رہتے ہیں عگہ میں نہیں رہتے۔بہجہ میں ان کے گھر موجود ہیں وہیں ان کی