خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 71

خطبات محمود 4 سال 1927ء قرآن کا علم ہے اور وہ ان سے اٹھ گیا ہے۔دین ہے اور وہ ان کے ہاتھ سے جاتا رہا ہے۔جب یہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کے زندہ رہنے کا کیا ذریعہ ہو سکتا ہے۔لاکھوں نہیں کروڑوں انسان ایسے ہیں کہ اگر ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہندو قوم سے ہمیں بڑے بڑے فوائد مل سکتے ہیں۔ان کی ہمدردی ہمیں حاصل ہو سکتی ہے۔سیاسی اور تجارتی مدد مل سکتی ہے۔بنکوں کے ذریعے ہمیں ان سے مدد ملنی شروع ہو جائے گی۔ہندو قوم اور ہندو قوم کی تمام آرگنائزیشن (Organization) ہماری پشت و پناہ بن جائے گی تو وہ فورا اسلام سے نکل کر ہندوؤں میں جا شامل ہوں گے۔ایک تو ہندوؤں کی کثرت اور دوسرے یہ اسباب جو ان کے پاس جمع ہیں مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے کافی ہیں۔لیکن بڑی بھاری مددجو ان کو مل رہی ہے وہ مسلمانوں کے اسلام اور دین سے ناواقف ہونے سے مل رہی ہے۔اگر مسلمان اپنے دین سے واقف ہوں تو بہت حد تک وہ ہندوؤں کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔پس اے عزیزو! سوچو کہ غدر کے بعد باوجود اس کے کہ گورنمنٹ نے اعلان کر دیا کہ ہم کسی کے مذہب میں دخل نہیں دیتے اور نہ ہم کسی خاص مذہب کی مدد کرتے ہیں۔گو بعض افسر خفیہ طور پر عیسائی مذہب کی مدد کرتے رہے ہیں) لیکن حکومت بار بار یہ کہتی تھی کہ ہم مذہب میں دخل نہیں دیتے اور ہم کسی مذہب کی مدد نہیں کرتے۔پھر بھی لاکھوں ہندو اور مسلمان عیسائی ہو گئے تا حکومت کے ہم مذہب ہو کر فائدہ اٹھا ئیں۔اسی طرح جب ہندو قوم مسلمانوں کی امداد کے لئے آمادہ ہوگی تو کیوں نہ لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان اس میں داخل ہو جائیں گے انگریزوں کی غدر کے بعد اس ملک میں نازک حالت تھی۔ان کا رعب بہت حد تک لوگوں کے دلوں سے اٹھ گیا تھا۔لیکن پھر بھی بے شمار لوگ اس وقت عیسائی مذہب میں داخل ہو گئے۔اور ہندوؤں کا رعب تو انگریزوں سے بھی بڑھا ہوا ہے۔اگر یہ لوگ اپنے ان ارادوں کو جنہیں وہ مضبوط کر چکے ہیں۔اسلام کے برخلاف پورا کرنے میں کامیاب ہو سکے تو لاکھوں مسلمان۔اسلام سے متنفر ہو کر نہیں اور نہ ہندو مذہب کی صداقت کو دیکھ کر۔بلکہ ہندوؤں کی کثرت اور ان کی مدددیکھ کر ہندو ہو جائیں گے۔ہندوستان میں پین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے۔سپین مسلمانوں کا ملک تھا اس میں سینکڑوں سال تک مسلمانوں نے اسلام کا جھنڈا بلند رکھا۔سپین وہ ملک تھا جو ان ملکوں کے لئے جو آج متمدن اور مہذب ملک کہلاتے ہیں مسلمانوں کی وجہ سے بڑی بھاری درس گاہ تھا۔ان کے لئے یونیورسٹی کا کام دیتا تھا۔اور یہ وہ ملک تھا جس کے باشندے یورپ کے ملکوں کے