خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 70

خطبات محمود 4۔سال 1927ء نے سینکڑوں سال تک خدا کے نور کو نہیں دیکھا۔وہ اس ارادے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں کہ خدا کی شمع کو بجھا دیں۔وہ نور سے بے بہرہ لوگ جو طلوع سورج کے وقت اپنے دروازوں کو بند رکھنے کے سبب نور ہدایت سے محروم رہے۔آج یہ ارادہ کر چکے ہیں کہ دنیا سے نور کے سب دروازے بند کر دیئے جائیں۔اور اس نور سے جو اسلام کے نام سے دنیا میں آیا لوگوں کو بے نصیب بنادیں پس میں آج ہر اس شخص سے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے ہر اس شخص سے جو اسلام کی ترقی اور عظمت کا خواہاں ہے ہر اس شخص سے جس نے اقرار کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھے گا۔یہ بات بڑے درد کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کا فرض ہے کہ اس نازک وقت میں بیدار ہو جائے۔اگر اس وقت مسلمانوں میں اور خاص کر ہماری جماعت میں یہ احساس نہ پیدا ہوا کہ اسلام پر خطر ناک وقت آیا ہوا ہے اور ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔اگر وہ بیداری جو اس وقت کے مناسب حال ہو ان میں پیدا نہ ہوئی۔اور اگر انہوں نے نہ سمجھا کہ اسلام نازک حالت میں ہے اور ہمیں بیدار ہو جانا چاہئے تو یاد رکھو اس غفلت کے نتیجے ایسے خطرناک نکلیں گے جن کا بعد میں کوئی علاج ہی نہیں ہو سکے گا۔دنیا ہمیشہ کثرت کی طرف جاتی ہے۔اور یہ مادہ دنیا میں پیدا ہے کہ جدھر کثرت ہو ادھر ہی جائے۔اور لوگ تو الگ رہے خود انبیاء کی مشکلات کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ لوگ کثرت ان کے خلاف دیکھ کر ان کے ماننے سے گریز کرتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں انسان ان کو سچا یقین کرتے ہیں۔لیکن اسی لئے ان کو قبول کرنے اور ظاہر طور پر ماننے کی جرات نہیں کرتے کہ انبیاء کی جماعتیں شروع میں قلیل ہوتی ہیں اور ان کے مخالفوں کی جماعتیں اپنے اندر کثرت رکھتی ہیں۔ایسے لوگ کثرت کے خیال سے قلت کی طرف نہیں آتے۔اس ملک میں پہلے ہی ہندوؤں کی کثرت ہے۔ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں چار چار ہندو ہیں۔اور جب پہلے ہی ان کو اس قدر کثرت اس ملک میں حاصل ہے۔تو اگر وہ اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہو گئے۔جو انہوں نے مسلمانوں کے متعلق کر رکھا ہے۔اور جسے وہ عمل میں لا رہے ہیں۔تو تھوڑے ہی عرصہ میں مسلمانوں کی تعداد اور بھی کم ہو جائے گی۔لیکن اگر مسلمان غفلت کو چھوڑ کر بیدار ہو جائیں۔تو یہ خطرہ جو پیدا ہوا ہے دور ہو سکتا ہے۔اور اس ذلت سے جو اس غفلت سے ملنے والی ہے بچ سکتے ہیں۔عام مسلمان دین سے بے بہرہ ہیں۔ایمان ان میں نہیں رہا۔آنحضرت ا کی محبت ان میں نہیں۔قرآن کا علم ان میں سے اٹھ گیا ہے۔ایسی حالت میں جب کہ وہ دینی و دنیاوی تمدنی اور سیاسی مشکلات میں بھی مبتلا ہیں۔ان کو اگر کوئی چیز قائم رکھ سکتی ہے تو ایمان ہے اور وہ ان میں ہے نہیں۔