خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 72

ات محمود ۷۲ سال 1927ء باشندوں کو ان کی غیر مہذب حالت کی وجہ سے وحشی جاہل اور غیر متمدن کہتے تھے۔اور یورپ کے لوگ اس جگہ کے مسلمانوں سے سبق لیتے تھے۔اور ان سے علم پڑھتے تہذیب سیکھتے۔اور تمدن کے اصول حاصل کرتے تھے۔لیکن آج اس پین میں ایک بھی مسلمان نہیں۔یہ نہیں ہوا کہ وہاں کے مسلمانوں کی نسل قطع ہو گئی ہو۔یہ بھی نہیں ہوا کہ وہاں کے مسلمان اس ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں جاہیئے۔بلکہ یہ ہوا کہ سب نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔وہ چینی قوم جس کے باپ دادوں نے خون میں غوطے کھا کھا کر اسلام کو اس ملک میں قائم کیا تھا۔وہ مسلمان جو توحید کے نام پر اپنا ذرہ ذرہ قربان کرنے پر آمادہ تھے۔وہ مسلمان جو آنحضرت ﷺ کی محبت میں جان و مال نثار کر دینے پر تیار تھے۔آج ان کی اولاد توحید کی بجائے تثلیث پرست ہے آج ان مسلمانوں کی اولاد کے دل محمد رسول اللہ اللہ کی محبت سے خالی ہیں۔اور صرف خالی ہی نہیں بلکہ گالیاں دیتے ہیں۔ان میں لاکھوں آدمی ایسے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہماری رگوں میں مسلمانوں کا خون دوڑ رہا ہے کیا مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی ان کی یہی حالت ہو ؟ وہ قوم جو تعداد میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو مال میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو انتظام میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو استقلال میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو ذرائع میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو اسباب میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو طاقت اور علم میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ ارادہ کر چکی ہے کہ جس طرح ہو لالچ سے پیار سے دھمکی دے کر مار کر سختی سے نرمی سے ، غرض کسی طرح بھی ہو ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو بنائے۔اور اگر وہ ہندو نہ بنیں تو ان کو جس طرح ہو ہندوستان سے نکال دے۔یہ وہ ارادہ ہے جو ہندو قوم نے جو توحید سے بالکل خالی ہے۔مسلمانوں کے متعلق کیا ہے۔اگر کوئی جماعت اس کے بر خلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔اگر کوئی جماعت سینہ سپر ہو کر اس کے مقابلہ کے لئے میدان میں آسکتی ہے تو وہ خدا تعالٰی کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت ہے۔پس یہ جو ہندوؤں کی طرف سے چیلنج دیا گیا ہے اگر احمدی جماعت اس کے جواب کے لئے میدان میں نکل کھڑی ہو تو یقیناً اسلام کی فتح ہے۔اور یہ آخری جنگ ہوگی۔جس کے ذریعہ شرک ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے گا اور توحید ہمیشہ کے لئے قائم کر دی جائے گی۔لیکن اگر احمدی جماعت نے اس زور کے ساتھ شرک کا مقابلہ نہ کیا۔اور اس جوش کے ساتھ توحید کی اشاعت کے لئے اٹھ نہ کھڑی ہوئی۔جو نبیوں کی جماعت کا نامہ ہے تو ہمیشہ کے لئے تو حید مٹ جائے گی۔اور دنیا سے خدا کا نام محو ہو جائے