خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 282

خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۲۸ء پائے جاتے ہیں۔میں اس وقت وہ وجوہ بیان کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا جن کی وجہ سے مسلمانوں کی یہ حالت ہے مگر اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت زیادہ ہیں۔پھر ایک عیسائی کے لئے عیسائی برادری کے خلاف چلنا آسان نہیں۔غرض ان قوموں میں رشتہ داریوں اور تعلقات کا جال اس طرح پھیلا ہوا ہے کہ کسی کے لئے اس سے نکلنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔مگر ہمارے معاملہ میں یہ حالت نہیں۔ہماری جماعت بالکل نئی جماعت ہے۔تعداد ابھی تھوڑی ہے اور پھر یہ کوئی نیا مذ ہب بھی نہیں اسلام کو ہی از سرنو قائم کرنے کا نام احمدیت ہے۔اس وجہ سے اس کی ظاہری عبادات میں اور دوسرے فرقوں کی ظاہری عبادات میں کوئی فرق نہیں نظر آتا۔دوسروں کی طرح ہی احمدی نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، حج کرتا ہے ، زکوۃ دیتا ہے۔اور اگر کوئی فرق ہے تو ایسا ہی ہے جیسا کہ مسلمانوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے اس لئے احمدی کے لئے دوسروں کے ساتھ میل جول میں کوئی دقت نہیں پیش آتی۔اول تو کسی بڑے شہر میں ۳۰ یا ۴۰ آدمیوں کی ایک جماعت کی ہستی ہی کیا ہے۔لیکن اگر کوئی قومی معاملات میں بغاوت کرے۔اور کسے میں تمہارے ساتھ تعلق نہیں رکھتا تو اس کو ڈر کیا ہے۔اگر کوئی احمدی کسی سے بد معاملگی کرتا ہے جماعت اس کو روکتی ہے اور کہتی ہے وہ ایسا نہ کرے تو وہ انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے میں تم سے تعلق نہیں رکھتا تو جماعت اس کا کیا بگاڑ سکتی ہے۔اس کے لین دین کے تعلقات، رشتہ داریاں دوسروں سے ہوتی ہیں اس لئے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔پس ہمارے لئے بہت سی مشکلات ہیں کیونکہ جو کام دوسرے لوگ محض قومی دباؤ سے لے لیتے ہیں۔اس کے لئے ہمیں قومی دباؤ کے علاوہ تدبر نرمی اور کئی دوسرے ذرائع سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے اور کئی راہیں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔پس ہمارے امیروں وغیرہ کو یہ خیال بھی ہونا چاہئے کہ ہمارا کام دوسروں کی نسبت بہت مشکل ہے اس لئے ہمیں بیداری کی بھی زیادہ ضرورت ہے مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ ہماری جماعتوں کے امراء اور پریذیڈنٹ ابھی تک اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔وہ صرف اتنا فرض سمجھتے ہیں کہ کسی میٹنگ میں آکر رائے دے دی۔جماعت کی اصلاح ، لڑائی جھگڑا فتنہ فساد کا انسداد ، جماعت کے اخلاق کی نگرانی ، جماعت کے بچوں کی تربیت کا خیال رکھنا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔اس کے لئے کہتے ہیں قادیان سے واعظ آنے چاہئیں۔مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ واعظ کا کام تو حق بتانا ہوتا ہے آگے کوئی حق ادا کرتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا امیر کا کام ہے۔واعظ کی حیثیت ایسی ہوتی ہے جیسے قانون بیان کرنے والے کی۔ایک