خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 283

خطبات محمود ۲۸۳ سال ۶۱۹۲۸ وکیل قانون بتاتا ہے مگر اس پر عمل کرانا پولیس کا کام ہے۔واعظ کا کام تو اتنا بتانا ہے کہ اسلام نے حقوق رکھے ہیں آگے سیکرٹریوں، پریذیڈنٹوں اور امیروں کا کام ہے کہ وہ دیکھیں ان حقوق اور فرائض کے مطابق لوگ زندگی بسر کرتے ہیں یا نہیں۔پس اصل نقص یہی ہے کہ امیروں پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں نے ابھی تک اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا نہیں۔حالانکہ سب سے پہلا فرض ان کا یہ ہے کہ دیکھتے رہیں لوگ حقوق العباد ادا کرتے ہیں یا نہیں۔جس طرح وہ مالی حالت کے متعلق دیکھتے ہیں کہ لوگ چندے باقاعدہ ادا کرتے ہیں یا نہیں اسی طرح انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دوسرے مذہبی فرائض بھی ادا کرتے ہیں یا نہیں۔جس طرح وہ یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ سلسلہ کی محبت میں ترقی کر رہے ہیں یا نہیں اسی طرح انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ لوگ اولاد کی نگہداشت کرتے ہیں یا نہیں ، نماز باجماعت ادا کرتے ہیں یا نہیں، معاملات میں صفائی رکھتے ہیں یا نہیں، وعدہ خلافی اور بد معاملگی تو نہیں کرتے۔کسی کا روپیہ تو نہیں کھا جاتے کیونکہ ، تک تمام پہلوؤں کے لحاظ سے جماعت ممتاز نہ ہو جائے اور ہر رنگ میں جماعت تکمیل کو نہ پہنچ جائے اس وقت تک ایک قومی کیریکٹر اور ایسا کیریکٹر قائم نہیں ہو سکتا جس کو دیکھ کر لوگ محسوس کریں کہ یہ فلاں قوم ہے۔اور جب تک ایسا ممتاز کیریکٹر نہ قائم ہو جائے اس وقت تک عمل سے لوگوں کو ہم اپنی طرف نہیں کھینچ سکتے۔صرف زبان سے کھینچ سکتے ہیں مگر زبان کا کھینچا ہوا کبھی مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ دلیل سے عقل کو تسلی دی جاسکتی ہے نفس کو تسلی نہیں دی جا سکتی نفس مشاہدہ چاہتا ہے۔کسی کو دلیل سے یہ تو بتا سکتے ہیں کہ جھوٹ برا ہے مگر اس سے وہ جھوٹ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہو جائیگا۔بہت سے لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جھوٹ برا ہے مگر باوجود اس کے جھوٹ بولتے ہیں۔اسی طرح چوری ہے اس کے متعلق دلائل سے یہ تو منوا سکتے ہیں کہ چوری برا فعل ہے مگر اس طرح چوری کرنا چھڑا نہیں سکتے۔کئی لوگ چوری کو برا سمجھتے ہیں مگر اس کے ارتکاب سے باز نہیں رہتے۔اس قسم کی باتیں جس طرح چھڑائی جاسکتی ہیں وہ عملی پہلو ہے اگر ہم عملی طور پر ایسے لوگوں کی مدد کریں اور انہیں بتائیں کہ کس طرح ایسی باتوں کو چھوڑا جا سکتا ہے تب وہ چھوڑیں گے۔اس کا بہترین طریق یہی ہے کہ امراء اور پریزیڈنٹ اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کا درس دیں۔یہ محض وعظ نہیں ہو گا کیونکہ یہ اپنے اندر مشاہدہ رکھتا ہے۔قرآن کریم وعظ نہیں بلکہ وہ مشاہدات پر حاوی ہے اسی طرح