خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 281

خطبات محمود ۲۸۱ ۳۷ سال ۱۹۲۸ء امراء و پریذیڈنٹوں کے فرائض فرموده ۱۳ جنوری ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے اس جلسہ سالانہ کی تقریروں میں جماعتوں کے امراء پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ جماعت کی ہر پہلو سے نگہداشت کرنے پر زیادہ توجہ دیا کریں اور جماعت کی حالت کی اصلاح کریں اور در حقیقت ایک مقامی امیر کی ضرورت اور حقیقی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مقامی جماعت کی تربیت کا خیال رکھے۔علاوہ اس کے ہماری جماعت کے قیام کی غرض چونکہ تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ کا زریں اصل جس مذہب نے قائم کیا ہے اسے دنیا میں پھیلانا ہے اس لئے بھی ہماری جماعت کے افراد کی دوسروں کی نسبت تربیت زیادہ ضروری ہے۔اور ہمیں اس کی طرف خاص توجہ دینے کی دو وجہ سے ضرورت ہے۔اول تو اس لئے کہ یہ ہمارا فرض ہے اور ہمیں اس کو پورا کرنا چاہئے دوسرے اس لئے بھی کہ ہمارے لئے اس کے راستہ میں زیادہ مشکلات ہیں۔دوسری اقوام کو تربیت کے لئے جتھے اور اپنی تعداد کا جو فائدہ حاصل ہے وہ ہماری جماعت کو نہیں۔وہ لوگ سینکڑوں ہزاروں سال سے ایک رسلک میں منسلک چلے آرہے ہیں اور ان کے ہم قوم ان کی آواز کو حقارت سے نہیں دیکھ سکتے۔ایک ہندو کے لئے یہ نہایت ہی مشکل ہے کہ وہ ہندو رہ کر ہندو تمدن اور ہندو رسوم کا مقابلہ کرے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ تبدیل مذہب کرلے لیکن ہندو رہ کر اگر وہ ہندو تمدن کی مخالفت کرے تو وہ ہندوؤں میں نہیں رہ سکتا۔اسی طرح ایک مسلمان کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ مسلمان بھی رہے اور اپنی قوم کی آواز پر کان نہ دھرے۔گو مسلمانوں میں بد قسمتی سے قومیت کا مادہ بہت کم ہے جس کی وجہ سے قومی آواز کو ٹھکرانے والے زیادہ