خطبات محمود (جلد 11) — Page 69
خطبات محمود 49 سال 1927ء فہرست شائع کر دی جائے گی۔تاوہ لوگ بھی کہ جنہوں نے اپنے وعدوں پر خدا کو گواہ قرار دیا اس بات کو سمجھ سکیں کہ وہ کسی ذمہ داری اور فرض کو اس وعدے کے کرنے سے اپنے اوپر عائد کر کے گئے ہیں۔اور تا جماعت کے لوگ بھی ان کے ان وعدوں پر گواہ ہو جائیں۔اور ہر فرد معلوم کر سکے کہ اس کی ذمہ داریاں نمائندوں کے اقرار کے ساتھ بہت بڑھ گئی ہیں۔آنحضرت ا کے زمانہ میں ہر شخص جو بیعت کرتا تھا وہ یہی اقرار کرتا تھا کہ اسلام پر اپنے آپ کو اپنی جان و مال کو غرضیکہ اپنی ہر شئے کو قربان کر دے گا۔لیکن خاص موقعوں پر بھی رسول کریم الخاص خاص بیعتیں لیا کرتے تھے۔ایسی بیعت در حقیقت اس ذمہ داری کا جو بیعت کے ذریعے عائد ہونی چاہیئے تازہ احساس ہوتا ہے۔اور تازہ احساس تکرار نہیں ہوتا۔ماں کو بیچے سے محبت ہوتی ہے اور ہر وقت ہی ہوتی ہے۔لیکن ایک وقت وہ اس کا منہ سر چومتی ہے۔اور اس کو طرح اپنی محبت ظاہر کرتی ہے۔پھر ایک وقت اس کی محبت کا احساس اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ اس کی خاطر ہر قربانی کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار پاتی ہے۔ایسی محبت تکرار نہیں ہوتی بلکہ محبت کا تازہ احساس ہوتا ہے۔اسی طرح گو ہر ایک مبائع ہر چیز کو پہلے ہی قربان کر چکا ہوتا ہے۔اور اس کی بیعت اس بات کی شاہد ہوتی ہے کہ اب اس کے بعد اسکا اپنا کچھ نہیں رہ گیا۔بلکہ وہ سب کچھ قربان کر چکا ہے لیکن پھر بھی تازہ وعدہ اس بات کا تازہ احساس اس میں پیدا کر دیتا ہے۔اور نئی ذمہ داریاں اس پر رکھ دیتا ہے۔پس میں باقی جماعت سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی ان لوگوں کے نقش پر چلے جو نمائندوں نے قائم کیا ہے۔اور وعدہ کرے کہ اسلام کی حفاظت اور اسلام کی ترقی اور عظمت کے واسطے اگر وطن چھوڑنے کی ضرورت ہو تو وہ وطن کو چھوڑ دے گی۔اگر جان قربان کرنے کی ضرورت ہو تو وہ جان قربان کر دے گی۔اگر مال لٹانے کی ضرورت ہو تو وہ مال لٹا دے گی۔اگر وقت خرچ کرنے کی ضرورت ہو تو وہ وقت خرچ کرے گی۔غرض اسلام کی ترقی کے راستہ میں جو روکیں ہیں۔ان کو دور کرنے کے لئے اسے خواہ کسی قسم کی قربانی کرنی پڑے اس سے دریغ نہیں کرے گی۔دیکھو ہندوستان میں آج کل اسلام پر خطر ناک وقت آیا ہوا ہے۔دشمن چاہتا ہے کہ اسلام کو مٹادے۔اور توحید کو مٹاکر شرک کی بنیاد رکھ دے۔اور اسلام کی جگہ ہندو مذہب قائم کر دے وہ بت پرست اقوام جن کی گھٹی میں شرک ملا ہوا ہے۔آج وہ خدائے واحد کی توحید کے مٹانے کے درپے ہیں۔وہ مشرک قو میں جن کے باپ دادوں کے ماتھے بتوں کے آگے جھکتے جھکتے رگڑے گئے وہ آج توحید کے مذہب اسلام کو نابود کر دینے کی کوشش میں ہیں وہ تاریکیوں میں رہنے والے لوگ جنہوں