خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 68

خطبات محمود ЧА سال 1927ء ہندوستان میں اسلام پر نازک وقت اور مسلمانوں کا فرض فرموده ۲۲/ اپریل ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں آج قادیان کے احمدیوں کو اور ان کے ذریعہ اور اس سلسلے کے اخبارات کے ذریعہ دوسری جماعتوں اور باہر کے احباب کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں مجلس شوری میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام کی ترقی اور اسلام کی عظمت کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کر کے موجودہ زمانہ کی مشکلات اور اسلام کی ترقی کے راستہ میں جو روکیں ہیں۔ان کو دور کرنے کے لئے حتی الوسع کوشش کی جائے۔جماعت کے تمام نمائندے جو ہندوستان کے مختلف صوبوں اور مختلف گوشوں سے اس موقع پر آئے تھے۔انہوں نے اس مجلس شوری میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اور اللہ تعالی کو گواہ قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ نہ صرف وہ اپنی ذات ہی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں گے بلکہ یہ بھی کہ واپس جا کر اپنی اپنی جماعتوں کو ان کے ان فرائض کی طرف توجہ دلائیں گے۔جو ان کے ذمہ عائد ہوتے ہیں۔اور ہر بھائی کو اسلام کی خدمت کے لئے کہیں گے۔اور انہیں اس نازک وقت کے لحاظ سے جو اسلام پر اس وقت ہے۔اس بات پر آمادہ وتیار کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اس کے لئے ہر رنگ میں کمر بستہ ہو جائیں پس میں تمام نمائندگان کے اس وعدہ کو جو ہمارے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں وہ کر کے گئے ہیں۔ساری جماعت کے سامنے پیش کرتا ہوں۔اور اس خطبہ کے ذریعہ ان کو بھی اور تمام جماعت کو آگاہ کرتا ہوں کہ جن لوگوں کو انہوں نے نمائندہ منتخب کر کے یہاں بھیجا تھا وہ کیا وعدہ کر کے گئے ہیں۔اور ان کے ان وعدوں کی بناء پر جو خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اور اسے گواہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کئے خودان پر اور آپ لوگوں پر کیا فرض عائد ہوتا ہے۔جلد ہی ان تمام نمائندوں کے ناموں کی