خطبات محمود (جلد 11) — Page 35
خطبات ۳۵ سال 1927ء اور اس کا کوئی مطلب اور حقیقت نہ ہوتی تو اس کیلئے ڈھول اور نر سنگا و غیرہ کافی تھے۔ڈھول اور نرسنگا وغیرہ کی آواز بھی اونچی ہوتی ہے اور وہ عجیب شے بھی تھے۔مگر ان کو جو استعمال نہیں کیا گیا۔اور ان کی جگہ اذان کو قائم کیا گیا۔تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس میں کچھ حکمت ہے۔مگر باوجود اس کے کہ ایک انسان اس بات کو جانتا ہے۔اور ہر روز پانچ وقت اسے سنتا ہے۔اس پر غور نہیں کرتا کہ اس میں کیا حکمت ہے۔اس میں جو حکمت ہے وہ یہی ہے کہ اذان دینے والا خدا کی آواز کو دہراتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کے اندر یہ حکمت ہے کہ یہ تمہیں رحمت اور کامیابی کی طرف بلاتی ہے۔اور یہ حکمت جو برکت اور رحمت اور کامیابی کی طرف بلاتی ہے۔ڈھول اور نرینگے اور نفیری وغیرہ کی آواز میں نہیں ہو سکتی۔لیکن کتنے ہیں وہ مسلمان کہلانے والے جو اس کی حقیقت پر غور کرتے ہیں۔دیکھو یہ جو آواز اٹھتی ہے یہ کہتی ہے آؤ آؤ نماز کی طرف آؤ۔آؤ آؤ کامیابی کی طرف آؤ۔آؤ آؤ برکت اور رحمت کی طرف آؤ۔پس مسلمانوں کا یہ کام ہے کہ وہ اس پر غور کریں کہ صلوٰۃ جس کا نام رحمت اور برکت ہے کیونکر اس کے وہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔جو اس کے ایک جگہ بلانے کے بتائے جاتے ہیں۔کیوں اس جگہ کہ جہاں بلایا جاتا ہے جانے سے وہ نتائج پیدا ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی نہ جائے تو اس کے وہ نتائج پیدا نہیں ہوتے۔ہم گھر پر بھی نماز پڑھ سکتے ہیں۔کیوں نہیں کہا گیا کہ یہ رحمتیں اور برکتیں گھر پر بھی مل سکتی ہیں۔اور گھر پر نماز پڑھنے سے بھی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔مسجد میں آنے کے لئے کیوں بلایا جاتا ہے۔اس بات پر اگر مسلمان غور کرتے اور اس بات کو مضبوطی سے پکڑ لیتے۔تو یہ تباہی جس میں وہ آج پڑے ہوئے ہیں ان پر نہ آتی اور وہ برباد اور ذلیل نہ ہوتے۔از ان کیا ہے ؟ اذان خدا تعالی کی آواز ہے جو کامیابی کی طرف بلاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے نماز رحمت ہے اور اس میں برکت ہے آؤ اس میں شامل ہو جاؤ۔گھروں پر نہیں مسجدوں میں۔لیکن دیکھو اس وقت نمازیں بھی وہی ہیں جو رسول کریم اپنا یا ان کے وقت تھیں۔الفاظ بھی وہی ہیں جو رسول کریم ان کے وقت پڑھے جاتے تھے۔حرکتیں بھی وہی ہیں جو رسول کریم اے کے زمانے میں تھیں۔لیکن باوجود اس کے نہ وہ برکتیں ہیں۔نہ وہ رحمتیں ہیں اور نہ وہ نتیجے پیدا ہوتے ہیں جو آنحضرت ا کے وقت پیدا ہوتے تھے۔کیوں نماز کے نتیجہ میں اب وہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی جو بتائی جاتی ہے اور جو آنحضرت ﷺ کے وقت حاصل ہوتی تھی؟ یہ ایک سوال ہے جو مسلمان لفظوں سے تو نہیں لیکن اپنی حالت سے پیدا کر رہے ہیں۔اور اب تو یہاں تک کہہ رہے