خطبات محمود (جلد 11) — Page 36
خطبات محمود ۳۶ سال 1927ء ہیں کہ نماز سے کچھ حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔یہ بات گومنہ سے نہ کہیں لیکن اپنے عمل سے کہہ رہے ہیں۔ہاں بے تکلف دوستوں کی مجلس میں کہہ بھی دیتے ہیں۔ایک شخص جو اچھے عہدہ پر فائز ہے۔اور مسلمانوں کے متعلق درد بھی رکھتا ہے۔میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مسلمانوں کی ترقی کا ر از نمازیں چھوڑنے میں پنہاں ہے۔جب تک مسلمان نماز نہ چھوڑیں گے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔مسلمانوں کے دل کے یہ خیال ہیں۔جنہیں عام مجالس میں نہ کہہ سکیں تو نہ کہہ سکیں۔لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ ان کے دلوں میں یہ خیال ضرور ہے کہ جب تک نمازیں ترک نہیں کی جاتیں تب تک کوئی کامیابی مل نہیں سکتی۔لفظوں میں تو شاید بہت ہی کم یہ کہتے ہوں لیکن عملاً مسلمانوں کا بیشتر حصہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کامیابیوں کے لئے نماز میں ترک کر دینی چاہئیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگوں کا یہ خیال نہ ہو۔اور اس شبہ کو پیدا ہی نہ ہونے دیتے ہوں لیکن عمل ان کے بھی یہی بتاتے ہیں کہ نماز کو کامیابی کاگر نہیں سمجھتے۔اگر ایسا نہ ہوتا۔اور ان کو یہ یقین ہو تا کہ نماز ہی سب کامیابیوں کی کنجی ہے تو ان کے اعمال وہ نہ ہوتے جو آج ہیں۔اور نہ آج مسجدمیں اس طرح ویران نظر آئیں کہ اول تو نماز پڑھنے والے ہی شازو نادر - اور جو پڑھتے ہیں وہ یقین سے خالی در نہ بھلا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ یقین بھی ہو کہ نمازیں کامیابی کا گر ہیں۔اور نمازوں کے ذریعے ہی برکت اور رحمت حاصل ہو سکتی ہے۔اور پھر نمازیں پڑھنے کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہو اور برکت اور رحمت نہ ملے۔پس مسلمانوں کی تباہی کا بڑا بھاری سبب ایک تو اذان کے الفاظ کی حکمت نہ جاننے اور پھر نمازوں کے لئے مسجدوں میں نہ آنے اور نمازوں کو کامیابی کا گر نہ سمجھنے میں ہے۔دیکھو لوگ دنیاوی ترقیوں کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے۔بعض وقت تو ان کو اس کے لئے سخت ذلت اور تکلیف بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔مگر باوجود اس کے وہ اس کے لئے کوشش کرتے چلے جاتے ہیں۔مسلمان بھی ان میں شامل ہیں۔اور اسی قسم کی کوششیں کرتے ہیں۔یہ جو پانچ پانچ روپوں کی ترقی کے لئے افسروں اور حاکموں کی منتیں اور خوشامد میں کرتے ہوئے مسلمان نظر آتے ہیں اور ان کے دروازوں پر گرے رہتے ہیں۔اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی ترقیوں کے لئے بعض وقت بڑی بڑی رقمیں بھی خرچ کر دیتے ہیں۔انہیں اگر یقین ہو تاکہ مسجدوں میں نمازوں کے لئے جانے سے حقیقی ترقی اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور نماز کے ذریعے ہم کو اس سے بڑھ کر ترقیاں مل سکتی ہیں۔اور نمازوں کے معاوضہ میں جو کچھ مل سکتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو لوگوں کے دروازوں پر گرنے سے ملتا ہے۔تو یہ خطابوں کے حاصل کرنے والے یہ عہدوں کی تلاش کرنے