خطبات محمود (جلد 11) — Page 391
خطبات محمود ۳۹۱ سال ۶۱۹۲۸ سے مسلمانوں میں خواہ وہ کسی فرقہ کے ہوں احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اتحاد ہونا چاہئے اور ایسی رو پیدا ہو گئی کہ خیال ہو تا تھا شاید مسلمانوں کی ترقی کے دن آگئے ہیں اور ان کی حالت کی اصلاح ہو جائے گی مگر پرانی عادتیں آہستہ آہستہ ہی مٹتی ہیں۔چلتی گاڑی کو روکنا مشکل ہوتا ہے اگر انجن لگا ہو تو اور بھی مشکل ہوتا ہے۔پھر جب کہ اس کی بریکیں بھی ایسے شخص کے قبضہ میں ہوں جس کے پیش نظر یہی ہو کہ چلتی ہی جائے خواہ آگے کچھ آجائے۔مسلمانوں کے لڑائی جھگڑے کی گاڑی چل رہی تھی اس کے آگے انجن لگا ہوا تھا بریک بھی ہمارے قبضہ میں نہ تھا اس کو چلانے والے کچھ دیر ہمارا شور سن کر ٹھرے کہ کیا بات ہے اسے سنیں مگر سن کر کہنے لگے یہ تو وہی پرانا اتحاد کا راگ ہے انہوں نے اور کو کلے ڈالے سٹیم نئی پیدا کی اور انجن چلا دیا۔نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ اسلامی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔اسلامی فوائد تباہ ہو رہے ہیں اور ان کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔اسلام کی تبلیغ مٹ رہی ہے۔غیر مسلم مسلمانوں کے حقوق میں دست اندازی کر رہے ہیں کوئی ان کو روکنے والا نہیں۔شدھی کا طوفان بپا ہو رہا ہے کبھی یہاں اور کبھی وہاں۔اس کی وبا کبھی پنجاب میں اور کبھی بنگال میں کبھی یو پی میں اور کبھی بہار میں جب پھوٹتی ہے تو اس وقت مسلمان صرف یہ کہتے ہیں کوئی ہے مرتد ہونے والوں کو بچانے والا۔اور ہر ایک سمجھتا ہے یہ دوسروں کا فرض ہے کہ جن لوگوں کو مرتد کیا جا رہا ہے انہیں بچائے میرا فرض نہیں ہے۔مسلمانوں کی مثال ایسی ہے جیسے کہتے ہیں دو شخص کسی درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔پاس سے ایک سپاہی گذرا جو اپنے کام پر جا رہا تھا کہ اسے آواز آئی ادھر آنا۔اس آواز کے عجز اور لجاجت سے متاثر ہو کر سپاہی ان کے پاس گیا۔ان میں سے ایک شخص نے بڑیلی حسرت سے اسے کہا اچھا ہوا آپ آگئے میں بڑی دیر سے اس انتظار میں تھا کہ میری چھاتی پر بیر پڑا ہے اسے کوئی اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دے۔سپاہی نے پہلے سمجھا اپاہج ہو گا مگر جب اس نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں ہیں تو اسے برا لگا۔اس نے بہت ملامت کی کہ ایسے فضول کام کے لئے تو نے راستہ چھڑا کر مجھے بلایا میں اس قدر ضروری کام پر جا رہا تھا یہ تو نے کیا کیا۔یہ سن کر دوسرے نے کہا کہ بھائی اس کی سستی کی کیا پوچھتے ہو یہ بہت ہی کابل اور ست آدمی ہے۔ساری رات کتنا میرا منہ چاہتا رہا یہ پاس ہی تھا مگر ہشت تک نہ کر سکا۔یہ سن کر سپاہی نے سمجھا کہ ان کو نصیحت کرنا فضول ہے اور وہ چلا گیا۔جہاں میں دیکھتا ہوں شدھی کا جال بچھایا جاتا ہے وہاں کے مسلمان شور مچا دیتے ہیں