خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 390

خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء لئے تیار ہیں کہ ایک حنفی آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف دلائل دے ہم سننے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح وہابی آئے اور اپنے دلائل سنائے ہمارا اس میں کیا حرج ہے ہم سنیں گے۔اسی طرح شیعہ آئے اور اپنی باتیں سنائے اور ہم تو پہلے ہی سنتے ہیں ہمیں اس پر کبھی اعتراض نہیں ہوا۔ہم تو خود کہتے ہیں کہ ہماری باتیں سنو اور اپنی سناؤ جب تم دیانتداری سے سمجھتے ہو کہ تمہیں اسلام کی ترقی کے متعلق وہ باتیں معلوم ہیں جو دو سروں کو نہیں معلوم تو تمہارا فرض ہے کہ دوسروں کو سناؤ لیکن ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کا کیا فائدہ اور اس کا اسلام کی ترقی سے کیا تعلق۔وہی وقت جو ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور لڑنے جھگڑنے میں خرچ کرتے ہو وہی قوم کو ترقی کی طرف لے جانے اور اسلام کی ترقی کے لئے خرچ کرو تو فائدہ ہو گا یا نقصان؟ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اگر واعظوں کے وعظ کی تصنیفات اور اخبار نویسوں کی تحریریں جمع کر کے دیکھا جائے کہ ان کا ذاتی جھگڑوں میں کتنا وقت لگتا ہے اور قومی ترقی کی تدبیریں بتانے میں کتنا تو ذاتی جھگڑوں اور اعتراضوں کے لئے بہت زیادہ وقت نکلے گا اور جو تھوڑا بہت وقت قومی تدابیر پر صرف ہوا ہو گا اس میں ایسی تدابیر ہوں گی جو فضول ہوں گی۔اور ان میں بہت کم ایسی ہوں گی جو ٹھوس اور مسلمانوں کی ترقی سے تعلق رکھتی ہوں حالت یہاں تک پہنچی ہوئی ہے کہ ہماری تمام پالیسی ہی تباہ کن ہوتی ہے۔ہر قلم جو چلتا ہے اعتراض کے لئے چلتا ہے، ہر زبان جب کھلتی ہے عیب چینی کے لئے کھلتی ہے، ہر دماغ جب سوچتا ہے تو یہی سوچتا ہے کہ فلاں میں نقص کیا ہے، آنکھیں جب دیکھتی ہیں دوسرے میں کپڑے ہی دیکھتی ہیں غرضیکہ دوسروں میں کوئی خوبی ہمیں نظر نہیں آتی۔عیب ہمیشہ ہماری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں۔اچھی چیز سمجھنے کے لئے ہمارے دماغ تیار نہیں عمدہ اور اچھی باتیں لکھنے سے ہمارے قلم کانپتے بلکہ ٹوٹ جاتے ہیں۔زبانوں کو لکنت ہو جاتی ہے بلکہ بند ہو جاتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ہر شخص کو مسلمانوں کے عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔اور بات بھی صاف ہے جب ہمیں اپنے آپ میں عیب ہی عیب نظر آتے ہیں تو دوسروں کو خوبیاں کس طرح نظر آسکتی ہیں۔میں نے اتحاد کی تحریک کے ماتحت اپنی جماعت کے اخبار نویسوں اور مصنفوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کچھ نہ لکھیں بلکہ یہاں تک تاکید کر دی ہے کہ اپنے بچاؤ اور خود حفاظتی کے لئے بھی ایسی باتوں میں نہ پڑیں۔اور پچھلے سال کا اس تحریک کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ