خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 392

خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۲۸ء مسلمانوں میں غیرت نہیں رہی کوئی ہماری خبر نہیں لیتا۔میں کہتا ہوں خدا کے بندو تم خود کیوں اپنی چھاتی پر سے بیر نہیں اٹھا لیتے کہاں سے مسلمان آئیں جو تمہاری خبر لیں؟ کہاں کے مسلمانوں میں تم سے زیادہ اتحاد پایا جاتا ہے ؟ کہاں کے مسلمانوں میں تم سے زیادہ مال و دولت ہے؟ تم خود اپنی خبر کیوں نہیں لیتے؟ اور کیوں اپنی حفاظت نہیں کرتے ؟ مگر ہر جگہ سے یہی آواز آتی ہے کہ کوئی ہے جو ہماری خبر لے۔بنگال میں اگر شدھی کا فتنہ اٹھتا ہے تو وہاں شور مچ جاتا ہے کہ کیا پنجابی مسلمان سو گئے اور علماء مرگئے کیوں ہماری خبر کو کوئی نہیں آتا۔اسی طرح پنجابی مسلمان اپنی جگہ شور مچاتے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے تم کس مرض کی دوا ہو۔اسی طرح یو۔پی میں فتنہ پیدا ہو تو بہار والوں کو کو سا جاتا ہے اور بہار والے بنگالیوں کو برا بھلا کہتے ہیں یہ نہیں کہ خود اپنی حفاظت کا انتظام کریں۔پھر میں کہتا ہوں خبر لینے والے بھی ہوتے ہیں مگر ان سے جو سلوک کیا جاتا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ملکانوں میں جب شدھی شروع ہوئی تو پہلے ہمیں آوازیں دی گئیں اور کہا گیا کہ احمدی کہاں ہیں وہ سب سے زیادہ حفاظت و اشاعت اسلام کا دعوی کیا کرتے ہیں اب کیوں آکر انہیں نہیں بچاتے۔مگر جب ہم وہاں پہنچے تو ایک ایک احمدی کے پیچھے دو دو مولوی لگ گئے اور کہنے لگے پہلے ہم احمدیوں کی خبر لیں گے اور پھر آریوں کی طرف متوجہ ہوں گے۔احمد کی ہونے سے آریہ ہو جانا اچھا ہے۔پس جنہیں کہا جاتا ہے کہ ہمیں بچاؤ اور وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم بچانے کے لئے تیار ہیں مگر ان سے بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ہم دوسروں کی طرح کسی سے یہ نہیں کہتے کہ آؤ ہمیں بچاؤ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ آؤ ہم تمہیں بچاتے ہیں مگر کہا جاتا ہے کہ تم اندر کے دشمن ہو اور دوسرے باہر کے دشمن ہیں اور اندر کا دشمن ہمیشہ باہر کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اس لئے دوسروں کی بجائے پہلے تمہاری مخالفت کریں گے۔ہماری طرف سے جو تحریک ہوتی ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں ان کی کوئی اپنی غرض ہو گی اس کی مخالفت کرنی چاہئے۔میں نے رسول کریم ﷺ کی عزت کے قیام کے لئے اور آپ کے صحیح حالات دنیا کے سامنے پیش کرنے کی غرض سے تحریک کی تھی کہ ۱۷ جون کو ہر جگہ جلسے کئے جائیں مگر ہزاروں ہیں جو کہتے ہیں کہ اس میں بھی ان کی کوئی ذاتی غرض اور اپنا مقصد ہو گا۔لیکن عجیب بات ہے کہ چالیس سال سے ہماری جماعت خدمات اسلام کر رہی ہے، اسلام کے لئے اپنے مال قربان کر رہی ہے ، اپنی جانیں قربان کر رہی ہے ، اپنے اوقات قربان کر رہی ہے ، اپنی عزت قربان کر رہی