خطبات محمود (جلد 11) — Page 301
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ کامیابی کے لئے صحیح طریق پر عمل کرنا ضروری ہے فرموده ۱۰ فروری ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دنیا میں ہر ایک چیز اور ہر ایک کام کے لئے ایک رستہ ایک طریق اور ایک راہ مقرر ہے بغیر اس راہ کے اختیار کرنے کے اور بغیر اس طریق پر چلنے کے انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اچھے سے اچھے مقصد کو مد نظر رکھ کر کوئی کام کرے اور اعلیٰ سے اعلیٰ نیت سے کام کرے لیکن اگر وہ اس طریق کو چھوڑے گا جو خدا تعالٰی نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہے تو کبھی کامیاب نہ ہو گا۔دنیا میں خالی نیت کبھی فائدہ نہیں دیتی۔بہت لوگ اس دھوکا میں رہتے ہیں کہ ہماری نیت نیک ہے اور چونکہ نیت نیک ہے اس لئے نتیجہ بھی اچھا نکلنا چاہئے۔مگر کوئی خواہ کتنی ہی اعلیٰ نیت رکھے لیکن بجائے منہ میں لقمہ ڈالنے کے ناک میں ڈالے تو اس سے اس کا پیٹ نہیں بھرے گا بلکہ بیمار ہو جائے گا اور اس کی نیک نیت اسے کوئی نفع اور فائدہ نہ دے گی۔اسی طرح اگر کوئی شخص نیک نیتی سے بجائے اس کے کہ کھیت میں ہل چلائے اور بیچ ڈالے اینٹیں پاتھتا رہے اور اینٹوں کے انبار لگا دے تو گو اس کی محنت ایک زمیندار کی محنت سے بہت زیادہ ہوگی مگر یہ نہیں ہو گا کہ اس کا کھیت سرسبز اور ہرا بھرا براتا ہو وہ کھیت کے لحاظ سے ناکام اور نا مراد ہی رہے گا۔پس لوگوں کو یہ خطرناک غلطی لگی ہوئی ہے۔وہ سمجھتے ہیں چونکہ ہماری نیت نیک ہے اس لئے اگر ہم غلطی پر ہیں تو بھی ہمیں خدا کچھ نہیں کہے گا اور ہم خدائے تعالی تک پہنچ جائیں گے حالانکہ جب تک کوئی اس طریق کو اختیار نہ کریگا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے خواہ اس کی نیت کتنی ہی نیک ہو اسے کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔دیکھو لا کھوں ہندو ایسے نظر آتے ہیں جو خدا کی