خطبات محمود (جلد 11) — Page 302
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء عبادت میں اس طرح لگے ہوتے ہیں کہ مسلمان انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے ہندو دیکھے ہیں جو ۱۲- ۱۲ سال سے چھت سے ٹانگیں باندھ کر الٹے لٹکے ہوئے تھے اور اس طرح اپنے خیال میں عبادت کر رہے تھے۔میں نے ایک شخص کو اسی حالت میں تھیلی سے آٹا نکالتے اور پھر گوندھتے دیکھا۔یہ میں نے تو نہیں دیکھا مگر تایا گیا کہ اُلٹے لٹکے ہوئے ہی یہ پکاتا اور کھاتا ہے۔اب دیکھو اس کی نیت تو یہی ہے کہ خدا مل جائے اور بظاہر دیکھنے والا سمجھے گا کہ رسول کریم سے بھی زیادہ ریاضت اور محنت ایسا شخص کرتا ہو گا کیونکہ آپ تو اپنے بیوی بچوں میں رہتے آرام فرماتے اور کھانا کھاتے تھے مگر ایسے شخص کو اتنا بھی اجیر حاصل نہیں ہو سکے گا جتنا ایک معمولی مسلمان کو جو نماز پڑھتا ہو ملے گا۔وجہ یہ کہ اس شخص نے وہ رستہ اختیار نہ کیا جو اختیار کرنا چاہئے تھا اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو مثلت میں ڈالا۔دیکھو اگر کوئی شخص ایک گاؤں سے سو میل بھی دوسری طرف چلا جائے گا تو اس گاؤں میں نہ پہنچے گا اور یہ نہیں ہو گا کہ گاؤں اس کے پاس آجائے بلکہ وہ اور دور ہو جائے گا لیکن دوسرا شخص اگر سو میل کے فاصلہ پر ہو گا اور چند میل بھی اس گاؤں کی طرف آئے گا تو وہ پہلے کی نسبت اس کے قریب ہو گا کیونکہ اس نے وہ رستہ اختیار کیا جو گاؤں تک پہنچنے کے لئے ضروری تھا اور پہلے نے وہ رستہ اختیار کیا جو گاؤں سے دور لے جانے والا تھا۔اسی طرح اگر انسان وہ طریق اختیار کرے جو خدا تعالیٰ نے کسی کام کے لئے مقرر کیا ہو تو تھوڑی محنت سے بھی وہ نتائج حاصل کر سکتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔پرانے دیسی کل جو استعمال کئے جاتے ہیں یہ بھی کچھ عرصہ سے استعمال کئے جاتے ہیں۔پرانے زمانہ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایسے کل بھی نہ ہوتے تھے اور لوگ پتھروں وغیرہ سے معمولی طور پر زمین کھود کر بیج ڈال دیتے تھے اور اسی طرح کھیتی اگ پڑتی اور رانے پیدا ہو جاتے تھے۔لیکن اگر کوئی سارا دن ٹوکری ڈھوتا رہے اور کل نہ چلائے تو اس کے کھیت میں کچھ نہ پیدا ہو گا۔پس صحیح طریق پر تھوڑی محنت کرنے سے مفید نتائج نکل سکتے ہیں لیکن غیر صحیح طور پر بہت محنت اور مشقت کرنے سے بھی کچھ نتیجہ نہیں نکلتا۔اس وقت جو مسلمانوں کی حالت ہے اس پر اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح طریق پر عمل نہیں کر رہے۔میں مانتا ہوں کہ دوسری قوموں سے مسلمان ست ہیں اور ان میں کام کرنے کا وہ شوق اور جوش نہیں پایا جاتا جو دوسروں میں نظر آتا ہے لیکن پھر بھی بہت