خطبات محمود (جلد 11) — Page 300
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ کریں تو مفید ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح خط و کتابت کے ذریعہ تمام ملک میں جوش کی لر پیدا کی جا سکتی ہے۔ای ایرانی اگر ان جلسوں کا یہی نتیجہ نکل آئے کہ ایک ہزار مسلمان رسول کریم کی لائف پڑھ لیں تو کتنا فائدہ ہو گا۔اس کے لئے وہ سیاسی آدمی بھی تیار ہو جائیں گے جو عام مذہبی جلسوں میں نہیں جاتے اور جب وہ اس مضمون پر لیکچر دینے کے لئے تیاری کریں گے تو رسول کریم کی محبت ان میں پیدا ہو جائے گی۔پس میں یہاں کی جماعت اور باہر کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ابھی سے اس بات کا انتظام کریں کہ ہر جگہ اور ہر طبقہ کے لوگ لیکچر دے سکیں۔یوں تو ایک ہزار آدمی یہاں سے اور ارد گرد کے گاؤں سے مہیا ہو سکتے ہیں۔اور کوئی تعجب نہیں۔قادیان سے ہی ایک ہزار آدمی ایسے مل جائیں لیکن اس کا فائدہ نہیں ہو گا۔یہاں سے لوگ کلکتہ، مدراس، ڈھاکہ اور رنگمون نہیں جاسکتے۔اور اگر ان علاقوں میں یہاں سے آدمی بھیجیں تو چار پانچ سال کی آمدنی ان کے آمد و رفت کے خرچ پر ہی صرف ہو جائے۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقہ میں مرکزی جماعتیں پیدا ہوں اور وہ اپنے علاقوں کے لئے خود آدمی کھڑے کریں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ٹریکٹ اور ہدایات شائع کریں مگر ان کو پھیلانا دوسری جماعتوں کا کام ہے۔الفضل ۳ / فروری ۱۹۲۸ء)