خطبات محمود (جلد 11) — Page 165
خطبات محمود ۱۶۵ سال 1927ء قابو میں رکھتا ہے۔اس سے مغلوب نہیں ہوتا۔جب مسلمان یہ دکھا دیں گے تو دنیا ان کے مقابلہ سے خود بخود بھاگ جائے گی کیونکہ دنیا دار اس کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے ہیں جس کی نسبت جانتے ہیں کہ اس کا نفس اس کے قابو میں نہیں۔چھوٹے بچوں سے فطرت صحیح کا خوب پتہ لگتا ہے۔بچے اسی کو چڑاتے ہیں جو ان کی باتوں سے پڑے۔بچے پڑنے والے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔لیکن اگر کوئی نہ چڑے تو پیچھے نہیں پڑتے۔مجھے یاد ہے پچپن میں لڑکے مجھے میاں صاحب میاں صاحب کہتے تھے۔اور میاں چونکہ ملا کو کہتے ہیں۔اور اس کے متعلق شعر بنائے ہوئے ہیں۔وہ مجھے سنا سنا کر پڑھتے۔تین چار دن پڑھتے رہے۔لیکن جب میں نے ان کی طرف توجہ نہ کی تو پھر وہ مایوس ہو کر خود بخود ہی ہٹ گئے۔اگر اس وقت میں غصہ کا اظہار کرتا تو مدتوں بچوں کے لئے کھیل بنا رہتا۔اب اگر مسلمان بچے طور پر اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جا ئیں۔اور اس طرح غیرت دکھا ئیں اور اقرار کریں کہ ہم ان لوگوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھیں گے جو رسول کریم کو گالیاں دیتے ہیں۔یا جو ان کے ساتھی ہیں۔اور ایسے لوگوں سے سودا خرید نا قطعا بند کر دیں گے ہاں مصیبت کے وقت ان کی ہمدردی کرنے کے لئے تیار رہیں گے۔لیکن سودا ایک پیسے کا نہ خریدیں گے۔اگر مسلمان اس پر پورے طور پر عمل کریں تو تھوڑے ہی دنوں میں ہندوؤں کی آنکھیں کھول سکتے ہیں۔لیکن اگر وہ اس کی بجائے لڑنا شروع کر دیں اور گورنمنٹ کو دھمکیاں دینے لگیں۔تو نہ ادھر کے رہیں گے نہ ادھر کے۔میرے نزدیک گورنمنٹ کا اس بارے میں اتنا قصور نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے۔یہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے۔اور گورنمنٹ مجبور ہے کہ اس کا احترام کرے۔ورنہ گور نر خود اعلان کر چکا ہے کہ یہ فیصلہ گورنمنٹ کے لئے حیرت کا موجب ہے۔اس زمانہ میں سکھا شاہی نہیں۔بلکہ قانون کے مطابق خواہ غلط ہو یا صحیح کام چلتا ہے۔پس گورنمنٹ کا اس میں قصور نہیں۔ہائی کورٹ کے لئے جو قانون بنایا گیا ہے۔گورنمنٹ اس کا احترام کرنے کے لئے مجبور ہے۔اور آج جو بات ہائی کورٹ میں ہمارے خلاف ہوئی ہے۔کل وہی دوسروں کے خلاف ہو سکتی ہے۔وہی ہائی کورٹ فیصلہ کرے گی کہ ہندوؤں کے بزرگوں کے خلاف اگر کوئی لکھے تو وہ بھی قابل سزا نہ ہو گا۔اس میں شبہ نہیں کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ غلط ہے اور ہمیں یہ بات بری لگتی ہے۔ہم اس عقل کو کوڑی کے برابر بھی نہیں سمجھتے جس کے نزدیک جسٹس دلیپ سنگھ کی ہتک کے لئے تو قانون موجود ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی بنک کے لئے کوئی قانون نہیں۔مگر قانون کا احترام امن کے قیام کے لئے ضروری ہے۔اور بعض باتوں کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔