خطبات محمود (جلد 11) — Page 166
خطبات محمود 144 سال 1927ء۔اس وقت جو کچھ ہوا اس میں میرے نزدیک گورنمنٹ نہیں بلکہ ہائی کورٹ کی غلطی ہے۔مگریہ ہندوؤں کا فریب ہے کہ مسلمانوں کو گورنمنٹ کے خلاف جوش دلا رہے ہیں۔تاکہ مسلمان گورنمنٹ سے لڑ کر تباہ ہو جائیں اور پھر حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں آجائے۔یہ ہندوؤں کا فریب ایسا ہی ہے۔جیسا ایک زمیندار نے سید مولوی اور ایک عام آدمی ان تینوں کے ساتھ کیا تھا۔ہندو چاہتے ہیں کہ پہلے مسلمانوں کو گورنمنٹ سے لڑوائیں۔اور اس طرح تمام مسلمانوں کو تباہ کر دیں۔پھر اکیلے رہ کر گورنمنٹ کا مقابلہ کریں۔اب گورنمنٹ بھی بے وقوف ہوگی اگر وہ اس دھوکے میں آجائے۔اور مسلمان بھی بیوقوف ہوں گے اگر وہ یہ دھوکا کھا جائیں۔مسلمانوں میں سے جو لوگ عقلمند ہیں انہیں فکر ہونی چاہیئے کہ ہندوؤں کے اس جال کو توڑ دیں۔اسی طرح انگریزوں میں سے جو عقلمند ہیں انہیں چاہیئے کہ ہندو نوازی کو ترک کریں۔گورنمنٹ محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک مسلمانوں سے صلح نہ رکھے۔اور مسلمان محفوظ نہیں ہو سکتے جب تک گورنمنٹ سے صلح نہ رکھیں۔ہندوستان کے وہ افسر جو مینڈک کی طرح وسیع نظر نہیں رکھتے انگریزی قوم کے دشمن ہیں۔اور وہ مسلمان جو اپنے عارضی فوائد کی خاطر مسلمانوں کے مستقل فوائد کو قربان کر رہے ہیں مسلمانوں کے اصل قائم مقام نہیں ہیں۔اس وقت میں مسلمانوں کو سب سے بڑی نصیحت یہی کروں گا کہ حکومت کا مقابلہ نہ کریں۔اس کا نتیجہ اچھا نہ ہو گا پہلے ہندو مسلمان دونوں مل کر گورنمنٹ کا مقابلہ کر چکے۔اور اس کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔پھر اکیلی مسلمان قوم گورنمنٹ اور ہندوؤں کے مقابلے میں کیا کر سکتی ہے۔چونکہ اب نہایت نازک وقت ہے اس لئے مسلمانوں کو عقل سے کام لینا اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ورنہ بجائے اسلام کی طاقت کا موجب بنے کے اس کی کمزوری کا باعث بن جائیں گے۔اور بجائے خدا تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کے اس کی ناراضگی کے مورد ہو جائیں گے۔اس وقت میں اپنی جماعت کو جو یہاں رہتی ہے۔اس خطبہ کے ذریعے اور جو باہر رہتی ہے اسے خطبہ کے چھپنے پر آگاہ کرتا ہوں۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے ہماری جماعت کو بڑا جوش عطا کیا ہے مگر بات جب ہے کہ مستقل کام کا ارادہ کر لیا جائے۔یہ خوشی کی بات ہے کہ ایسے جوش کی حالت میں بھی ہماری جماعت آپے سے باہر نہیں ہوئی۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ احمدی قوم نے وہ تعلیم جذب کرلی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ ہندو گورنمنٹ کو ہم سے بدظن کریں گے اور بد ظن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور ممکن ہے کہ