خطبات محمود (جلد 11) — Page 164
خطبات محمود ۱۶۴ سال 1927ء کروڑوں انسان قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔اور جس کے تقدس پر کروڑوں انسان یقین رکھتے ہیں۔لیکن جس کی ہتک کا مجرم ایڈیٹر مسلم اوٹ لک قرار دیا گیا ہے۔اس سے ایک آدمی بھی اس قسم کا اخلاص نہیں رکھتا۔پھر ایک طرف گندی گالیاں ہیں۔اور دوسری طرف یہ کہ جن حالات میں فیصلہ کیا گیا ہے۔ان کی تحقیقات کی جائے۔بے شک اس کے سخت معنی بھی ہو سکتے ہیں جو ججوں نے لئے ہیں۔مگر اچھے بھی ہو سکتے ہیں۔میں کوئی قانون دان نہیں۔مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے۔عدالتیں شک کا فائدہ ملزم کو ہی دیتی ہیں۔مگر مسلم آوٹ لک" کے مقدمہ میں ایسا نہیں ہوا۔اور مسلمانوں کی طبائع میں ہیجان پیدا ہو نا قدرتی بات ہے۔لیکن پھر بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر اسلام اور شریعت کی عزت کو قائم رکھنا ہے تو اسلام جب یہ کہتا ہے کہ حکومت کے قانون کی پابندی کرو تو ضرور کرنی چاہئے۔اگر ہمارے جوش اللہ تعالٰی کے لئے ہیں۔تو اس کے قانون کی پابندی کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔رسول کریم ال سے ہمارے دو قسم کے تعلقات ہو سکتے ہیں۔ایک حقیقی جو آپ کی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوں۔اور دوسرے وہ جو ورثہ میں ملے ہوں۔یعنی ماں باپ کی طرف سے رسول کریم اللہ کی محبت ملی ہو۔اب اگر ہم جوش اور غصے کی حالت میں رسول کریم کی تعلیم کو بھول جاتے ہیں تو آپ سے ہمارا تعلق حقیقی نہیں ہو گا بلکہ ورثہ کا ہو گا۔لیکن اگر پر۔جوش کے وقت ہم آپ کی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہیں تو پھر ہمارا آپ سے حقیقی تعلق ہو گا۔اور یہی فخر اور خوشی کی بات ہے۔وہ محبت کوئی محبت نہیں جو ماں باپ سے ورثہ میں ملی ہو۔محبت وہی ہے جو اپنے دماغ اور عقل سے ملی ہو۔اس وقت میں اپنی جماعت کو اور دوسرے انسانوں کو جن میں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہزاروں میری بات کو توجہ سے سن رہے اور قبول کر رہے ہیں۔نصیحت کرتا ہوں کہ اس وقت اسلام پر سب سے زیادہ نازک زمانہ آیا ہوا ہے۔اس وقت تمہیں یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ ہم محمد ان کی تعلیم پر چلتے ہوئے کسی قسم کے فساد کے لئے تیار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکمل شریعت دی ہے۔اور مکمل دماغ دیا ہے۔اس کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ مسلمان عقل سے کام نہیں لے سکتے دیوانہ پن ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے ہمیں کوئی ایسے سامان نہیں دیئے کہ ہم محمد کی تعلیم پر چلتے ہوئے آپ کی عزت کو بچا سکیں ؟ اگر فی الواقعہ نہیں دیئے۔تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ نے نعوذ باللہ محمد اللہ کو چھوڑ دیا ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ آپ کی عزت کے بچانے کے لئے کوئی سامان نہ دئیے ہوں۔پس مسلمان کو چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کی عزت کو بچانے کے لئے غیرت دکھا ئیں۔مگر ساتھ ہی یہ بھی دکھا دیں کہ ہر ایک مسلمان اپنے نفس کو