خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 60

خطبات محمود سال 1927ء ہے۔خدا کے قریب کرتی ہے۔مگر اس نے ہمیں قریب نہیں کیا۔اس لئے یہ اس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔کہ چند مقررہ وقتوں پر چند حرکات کر دی جاتی ہیں۔اس لئے ہم ان بے فائدہ حرکات کو چھوڑتے ہیں۔یہ کیوں ہوا۔دلوں کو ٹولو۔کیا یہ اس لئے نہیں ہوا کہ نماز کو نماز سمجھ کر ادا نہیں کیا جاتا۔کیا اس لئے نہیں ہوا کہ خیالات اور ارادے اور طرف ہیں۔کیا یہ اس لئے نہیں ہوا کہ اس سے نفع حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔اسی طرح روزہ کا حال ہے بہتوں نے روزہ بھی چھوڑ دیا کہ وہ بھی خدا کے قریب نہیں کرتا۔اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔حالانکہ خود انہوں نے اس سے فائدہ اور نفع حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے سمجھا ہی نہیں کہ اس کے کیا فائدے ہیں۔نماز اور روزہ اور دوسری عبادتوں میں تو کوئی نقص نہیں۔وہ واقعی خدا کے قریب کرنے والی ہیں نقص اگر ہے تو انسان کا ہے۔جو صحیح طریق استعمال نہیں کرتا۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان پر یقین نہیں رہتا۔اور جب یقین نہ رہے تو عمل کیسے رہ سکتا ہے۔اس طرح لوگ نماز روزہ کو چھوڑ بیٹھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔کیمیا گر جب ناکام رہتا ہے تو کہتا ہے کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی ہے۔گویا وہ کیمیا بننے سے نا امید نہیں ہوتا۔بلکہ اپنی کوشش کا نقص قرار دیتا ہے۔حالانکہ کیمیا گری میں امید کی گنجائش ہی نہیں۔اور خدا کے ساتھ تعلق بڑھنے اور اس کے قریب ہونے کی تو پوری امید ہے۔مگر کیمیا گر جس کی ساری عمر ہی ایک آنچ کی کسر میں گزر جاتی ہے۔وہ تو باوجود ہر دفعہ کی ناکامی کے ناامید نہیں ہو تا۔لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے قریب ہونا چاہیے کامیاب نہیں ہو تا تو اپنے طریق عمل کا نقص قرار نہیں دیتا۔بلکہ خدا تعالیٰ سے ناامید ہو کر فورا نا امید ہو جاتا ہے اور اپنی تمام کوششیں چھوڑ بیٹھتا ہے۔پس کیمیاگر تو غلطی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور سونا بننے کے خیال کو یقینی سمجھتا ہے۔لیکن خدا کو پانے کی کوشش کرنے والا اپنی غلطی کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔ایسے لوگ عبادتیں ہی غلط طریق سے کرتے ہیں۔اور پھر کہتے ہیں خدا نہیں ملتا۔اگر وہ غلطی اپنی طرف منسوب کرتے۔اس کی اصلاح کی کوشش کرتے تو ضرور کامیاب ہو جاتے۔لیکن وہ ایسا کرتے ہی نہیں۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص سیدھے راستہ پر بھی چلے اور منزل مقصود بھی نہ پائے۔دیکھو ایک شخص یہاں سے بٹالہ کے لئے روانہ ہو۔مگر گھنٹوں پر گھنٹے۔دنوں پر دن۔ہفتوں پر ہفتے مہینوں پر مہینے سالوں پر سال گزرتے جائیں اور وہ بٹالہ نہ پہنچے تو کیا وہ سمجھ لے گا کہ صحیح راستہ پر چل رہا ہے۔دنوں ہفتوں اور مہینوں اور سالوں کا گزرنا تو بڑی بات ہے۔جو شخص تین چار گھنٹے تک چلتا ر ہے اور