خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 61

+1927 41 خطبات محمود اسے بٹالہ نظر نہ آئے۔وہ سمجھ لے گا کہ میں کسی غلط راستہ پر پڑ گیا ہوں۔ورنہ ضرور تھا۔کہ اس وقت تک میں بٹالہ پہنچ گیا ہو تا۔اسی طرح جو شخص عبادتیں کرنے کے باوجود قرب الہی نہیں پاتا۔اسے بھی سمجھنا چاہئے کہ اس کے عبادت کرنے میں نقص ہے اور اسے یہ حق حاصل نہیں کہ غلط طریق پر عبادتیں کرتا رہے اور پھر یہ شکایت کرے کہ خدا کیوں نہیں ملتا۔جس طرح بغیر سید ھے راستہ پر چلنے کے منزل مقصود نہیں آتی۔اسی طرح بغیر درست عبادتیں کرنے کے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔پس وہ خدا جو کہتا ہے۔اِنّى قَریب وہ ضرور انسان کے قریب ہوتا ہے بشر طیکہ درست طریق سے عبادتیں کی جائیں جو شخص اس بات کو نہیں سمجھتا۔اس کے متعلق سمجھ لو کہ اس کی فطرت مرگئی ہے اور اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔وہ اندھا ہے کہ چلتا ہے لیکن راستہ اسے نظر نہیں آتا۔وہ کولہو کے بیل کی طرح چلا جا رہا ہے۔مگر کسی جگہ پہنچ نہیں سکتا۔اسے چاہئے اپنی اصلاح کرے۔پس اپنے باطن کو خود مولو۔اپنے نفسوں کو دیکھو۔اور خود اندازہ لگاؤ کہ تمہاری عبادتیں کس قسم کی ہیں۔اعمال کی درستی کرو۔عقل و حواس کی درستی کرو۔کیونکہ جو کہتا ہے میں قریب ہوں اور قریب ہو جاتا ہے۔پھر وہ تمہارے قریب نہیں ہو تا تو تمہارے اندر نقص ہے۔اسے دور کرو۔پھر دیکھو وہ اپنے وعدہ کے مطابق قریب ہوتا ہے یا نہیں۔اگر ایک شخص کو بخار چڑھا ہو۔سخت سردی لگ رہی ہو۔اس کے پاس آگ رکھی ہو۔مگر وہ کہے اور آگ لاؤ تا میری سردی کم ہو۔تو ایسے وقت تم کیا کرو گے طبیب کو بلاؤ گے یا آگ پر آگ اس کے آگے رکھتے چلے جاؤ گے ؟ اس وقت تم طبیب کو تلاش کرو گے ،اگر می محسوس کرنے والی جو حس اس کے اندر سے مرگئی ہے۔اسے پھر زندہ کرے۔ملیریا بخار اور بعض دوسرے بخاروں میں عام طور پر سردی محسوس ہوتی ہے۔اور بیمار کہتا ہے اور لحاف ڈالو۔اگر اس کے کہنے کے مطابق سینکڑوں کو لحاف اس پر ڈال دیں تو بھی اس کی سردی کم نہ ہوگی۔کیونکہ اس کے اندر سے گرمی محسوس کرنے کی طاقت مفقود ہو گئی ہے۔اسی طرح وہ ہستی جو کہتی ہے میں قریب ہوں۔مگر وہ قریب نہ ہو تو اس کے یہی معنے ہیں کہ تم میں وہ طاقت ہی نہیں رہی جس سے تم اسے اپنے قریب محسوس کر سکو۔اگر واقعہ میں اس کی حس نہیں رہی۔تو اس کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے اخلاق بیمار ہیں۔تمہارا افکار بیمار ہے تمہارے اعمال بیمار ہیں۔تمہارا علم بیمار ہے۔تمہارا عرفان بیمار ہے اور تمہیں روحانی طبیب کی ضرورت ہے۔پس تم اپنے نفسوں کو ٹولو- باطن میں غور کرو۔اور پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے۔جس دن اور