خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 59

خطبات محمود ۵۹ سال 1927ء رکھتے ہیں تو میں کہتا ہوں ان قریب ہے میرے بندے میں قریب آگیا ہوں۔میں تمہارے پاس آگیا ہوں۔پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی ایسی چیز ہو سکتی ہے۔جس کا فائدہ اس دنیا میں نہیں قیامت کو ملے گا۔تو بھی روزہ ان عبادتوں میں نہیں جن کا نفع دیر کے بعد ملتا ہے۔روزہ کا نفع عاجل اور آجل طریق پر مانا چاہئے۔اگر یہ نہیں تو یقینا تمہیں ایک انچ کا ہزارواں لا کھواں حصہ بھی خدا کے قرب کا حاصل نہیں ہوا۔میں دیکھتا ہوں تم میں سے بہت ہیں جن کے خیالات دوسری باتوں کی طرف لگے ہوئے ہیں۔جن کے ارادے دوسرے کاموں کی طرف منتقل ہیں۔جن کی طاقتیں دوسرے امور میں مصروف ہیں۔اور وہ اس طرف سے غافل ہیں۔جس طرف انہیں ہوشیار ہو کر متوجہ ہونا چاہئے۔اور جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں کھڑا کیا۔ان کا وقت بعض عادی امور کے لئے خرچ ہوتا ہے۔ان کی توجہ کھانے پینے کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ان کا خیال سکتے کاموں کی طرف لگا ہوا ہے۔بکواسوں اور ادھر ادھر کی بیہودہ باتوں میں وقت گنواتے ہیں۔اور نہیں وقت صرف کرتے نہیں مال و دولت خرچ کرتے، نہیں توجہ کرتے ، نہیں کوشش کرتے تو خدا کا علم حاصل کرنے کے لئے نہیں کرتے۔اس کی معرفت اور اس کا عرفان حاصل کرنے کے لئے نہیں کرتے۔جبکہ ان کا قدم دوسری طرف اٹھ رہا ہے۔جبکہ ان میں تذلل اور انکسار ہی نہیں پیدا ہو تا تو اس صورت میں نفع کیا مل سکتا ہے اور فائدہ کیا حاصل ہو سکتا ہے۔کیا وہ جو غیر کی طرف جا رہا ہے یار کی طرف جانے والا کہلا سکتا ہے۔آگ میں کودنے والے کو پانی کی ٹھنڈک کس طرح محسوس ہو سکتی ہے۔تاریکی میں رہنے والا نور کالطف نہیں اٹھا سکتا۔یہ جو زہر تمہیں چڑھا ہوا ہے اتر نہیں سکتا جب تک تم اس تریاق کا گلاس منہ سے نہ لگاؤ گے جو خدا نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے۔جب تک تم اس تریاق کے گھونٹ نہ پیئو تمہاری عبادتیں کوئی فائدہ نہ دیں گی۔نمازیں پڑھتے رہو اور مدتوں پڑھتے رہو۔روزے رکھتے چلے جاؤ اور سالہا سال تک رکھتے چلے جاؤ۔حج کرو اور کئی سال کرتے رہو۔جب تک اس تریاق کا گلاس منہ سے نہ لگاؤ گے۔نہ نماز نفع دے گی نہ روزہ فائدہ دے گانہ حج سے کچھ حاصل ہو گا نہ دوسری عبادتوں سے کچھ ملے گا۔کیا یہ صحیح نہیں کہ لاکھوں کروڑوں مسلمان کہلانے والے نماز چھوڑ بیٹھے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں یہ صرف ایک مشق ہے اور ایک کھیل ہے جو ہر روز یونہی کھیلا جاتا ہے۔اور جس کا کوئی فائدہ نہیں۔وہ کہتے ہیں جو فعل خدا کے قریب نہ کرے۔اس کے کرنے کا کیا فائدہ؟ نماز کے متعلق کہا جاتا