خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 58

سال 1927ء خطبات محمود ۵۸ لئے خود کرنے لگ گیا۔اس کے ماں باپ گزر گئے۔لیکن جو بات ان کو کرتے دیکھی تھی وہ بدستور کر رہا ہے۔کیونکہ اس کی اسے عادت ہو گئی ہے۔اور اس کی کوئی دلکشی یا کوئی فوائد اس کے علم میں نہیں۔مگر عقلمند وہ ہوتا ہے جو ہر کام کرنے نے پہلے سوچ لے کہ اس کی حکمت کیا ہے۔میں اسے کیوں کرنے لگا ہوں۔اس کے کرنے میں کیا خاندہ اور نہ کرنے میں کیا نقصان ہے۔پھر وہ اتنے بڑے کام کو تو کرتا ہے کہ پورا مہینہ فاقہ کشی کرتا ہے۔لیکن سوچتا نہیں کہ کیوں کرتا ہے تو کیا وہ عظمند کہلا سکتا ہے ؟ یقینا اسے کوئی عقل مند نہیں کہے گا کہ سارا دن تو بھوکا رہتا ہے۔پیاسا رہتا ہے۔خواہشات کو دبائے رکھتا ہے۔لیکن اس کی حکمت سے واقف نہیں۔اور نہ کوشش کرتا ہے کہ واقف ہو۔قرآن کریم میں روزہ رکھنے کی یہ حکمت بتائی گئی ہے کہ روزہ رکھنے والا خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔میں تم میں سے ہر ایک سے سوال کرتا ہوں۔کیا سچ سچ آج کل تم خدا کے قریب ہو گئے ہو اور خدا تمہارے قریب آگیا ہے۔کیا تمہاری پہلی اور آج کل کی دعاؤں میں کوئی فرق ہے۔کیا تمہاری پہلی اور آج کل کی حالتوں میں کوئی فرق ہے۔کیا تمہاری پہلی اور آج کل کی عبادتوں میں کوئی فرق ہے۔کیا تمہارے پہلے اور آج کل کے عرفان میں کوئی فرق ہے۔کیا تمہارے پہلے اور آج کل کے علم میں کوئی فرق ہے۔کیا تمہاری پہلی اور آجکل کی معرفت میں کوئی فرق ہے۔اگر نہیں۔تو بتاؤ روزے نے تمہیں کیا نفع دیا ؟ اگر یہ سچ ہے کہ روزہ قرب الہی کا ذریعہ ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ روزہ سے خدا تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے۔تو بتاؤ تم کو کونسا قرب الہی حاصل ہوا کس قدر خدا تمہارے قریب ہوا۔جو قرب تم کو حاصل ہوا اس کی علامتیں دکھاؤ اور اس کی نشانیاں ظاہر کرو۔اگر اب بھی دل اسی طرح زنگوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔جس طرح پہلے تھے۔اگر قلب میں اب بھی رہی ہیجان ہے۔جو خدا سے دور لے جا رہا ہے۔اگر عبادات میں کوئی لذت و سرور نہیں ملتا۔اگر دعاؤں میں قبولیت کا اثر پیدا نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہاتھ بالکل اسی طرح جس طرح ماں کا ہاتھ بچے کی طرف بڑھتا ہے تمہاری طرف نہیں بڑھایا جاتا۔تو سوچو اور بتاؤ کہ روزہ نے تمہیں کیا نفع دیا اور بتاؤ جو چیز آج فائدہ نہیں دیتی وہ قیامت کو کیا فائدہ دے گی۔جو شے استعمال کے وقت کوئی فائدہ نہیں دیتی وہ سینکڑوں سال کے بعد کیا فائدہ دے سکتی ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بعض چیزیں چونکہ دیر کے بعد نفع دیا کرتی ہیں۔روزہ بھی دیر کے بعد نفع دیگا۔دیر کا بھی مناسب مفہوم ہو ا کرتا ہے اور روزہ وہ چیز نہیں جو دیر کے بعد نفع دے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جس وقت میرے بندے روزہ