خطبات محمود (جلد 11) — Page 57
+1927 خطبات محمود ۵۷ کیا ہے۔لیکن چونکہ یہ ایک ایسا پر اثر نظارہ اور پرکیف بات ہوتی ہے۔کہ دوسروں کے قلوب بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔اس لئے بچے بھی اصرار کرنے لگ جاتے ہیں۔کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے۔اور وہ بچے جو ایک منٹ کھانا دیر سے پہنچنے پر زمین آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جو کھانا بر تانے میں اگر لحظہ بھر دیر ہو جائے تو ناک میں دم کر دیتے ہیں۔وہ اجازت مانگتے ہیں کہ ہم بھی بارہ سے سولہ گھنٹہ تک کا فاقہ کرنا چاہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور روزہ کے اندر کوئی ایسی کشش ہے جس کی وجہ سے بچے بھی بھوکا رہنا چاہتے ہیں۔اور وہ بھی اپنے آپ کو ان تکالیف میں ڈالنا پسند کرتے ہیں جن میں وہ اپنے بڑوں کو دیکھتے ہیں۔پھر کیا ہمارے روزے انہی بچوں کی طرح ہوتے ہیں۔جو صرف یہ جانتے ہیں کہ چونکہ ماں باپ روزہ رکھتے ہیں۔اس لئے ہم بھی رکھتے ہیں۔اس سے زیادہ نہ ان کو کچھ معلوم ہوتا ہے۔اور نہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کیا ہمارا بھی یہی حال ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کو جس لائن پر چلتا دیکھ چکے اس پر چل رہے ہیں۔اور اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے۔اگر اتنی سی بات ہے تو یقیناً ہمارے روزے بچوں کے روزوں کی طرح ہی ہیں اور اس سے زیادہ نہیں۔نہ بچے سوچتے ہیں کہ روزوں کی حکمت کیا ہے نہ ہم۔نہ وہ ان کے فوائد معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں نہ ہم وہ ماں باپ کو روزہ رکھتے دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں خود بھی رکھیں۔اسی طرح ہم نے بھی ماں باپ کو روزہ رکھتے دیکھا اور روزہ رکھنا شروع کر دیا۔پس ہماری عمر خواہ کتنی ہی ہو۔ہم اب بھی بچے ہی ہیں۔کیونکہ ہم جو کام کرتے ہیں۔اسکے متعلق نہیں جانتے کہ کیوں کرتے ہیں۔ایک ساٹھ سال کا بڑھا باوجود ضعف اور کمزوری کے اور باوجود مخفی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے روزہ رکھتا ہے اگر وہ روزے کی حکمت سے واقف نہیں۔تو وہ بوڑھا ہو کر بھی عقل مند کہلانے کا مستحق نہیں۔اس کا یہ فعل بچوں کا ساہی ہے۔اس کی عمر اس کی ڈاڑھی کی سفیدی اور اس کا زیادہ عرصہ دنیا میں گزارنا اس میں اور بچے میں کوئی فرق نہیں پیدا کرے گا۔وہ آج بھی باوجود اتنی عمر کے بچہ ہی ہے۔کیونکہ وہ بچوں کی طرح ہی بھوکا رہتا ہے۔دہ بڑھا جو روزے تو رکھتا ہے لیکن ان کی حکمت نہیں جانتا نہ جانے کی کوشش کرتا ہے عقل ند کہلانے کا مستحق نہیں۔وہ ایک نادان بچہ کی طرح ہے۔بلکہ میرے نزدیک بچہ سے بھی زیادہ نادان ہے کیونکہ بچے کی خواہش کی بنیاد ظاہری دلکشی پر تو ہوتی ہے۔وہ دوسروں کو بھوکا رہتا دیکھتا ہے۔اس میں وہ ایک دلکشی پاتا ہے جو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔اور عمل سے اس کا مزہ اٹھانا چاہتا ہے لیکن بڑھا عادت کے طور پر ایسا کرتا ہے۔اس نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسا کرتے دیکھا۔اس مند