خطبات محمود (جلد 11) — Page 511
خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۲۸ء گورنمنٹ ہی ہوتی ہے اس لئے وہ گورنمنٹ کے پاس گئے اور جاکر کہا یہ خطرناک آدمی پیدا ہو گیا ہے اس کا انتظام کرنا چاہئے اس طرح گورنمنٹ ہوشیار ہوئی۔ادھر عوام نے آپس میں کہنا شروع کیا یہ ایسا انسان پیدا ہوا ہے جو ہمارے نظام میں تغیر کرنا چاہتا ہے اس کا مقابلہ کرنا چاہئے اس طرح ان میں آپ کے کھڑے ہونے کی خبر پہنچی۔اسی طرح صوفیوں نے اپنی مجلسوں میں اور مولویوں نے اپنے وعظوں میں آپ کا ذکر کرنا شروع کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ آواز پہنچ گئی۔انگریزوں کے ذریعہ دوسرے ممالک کے انگریزوں تک مولویوں کے ذریعہ دوسرے ممالک کے مولویوں تک صوفیوں کے ذریعہ دوسرے ممالک کے صوفیوں تک آپ کا ذکر پہنچ گیا۔اور وہ کام جسے ہم ہزاروں سال میں بھی نہ کر سکتے تھے شیطان نے چند ماہ میں کر دیا۔اور وہی چیز جسے انسانی نسلوں کو تباہ کرنے والی سمجھا جاتا ہے وہی دنیا پر حجت پوری کرنے والی بن گئی۔کہا جاتا ہے کیونکر ساری دنیا پر حجت تمام ہو گئی کہ وہ عذاب کے نیچے آجائے گی یا کم از کم سوال کے نیچے آگئی۔ہم تو اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کامل حجت کے بغیر عذاب آجائے لیکن بہر حال سوال تو ہر اس شخص سے ہو سکتا ہے جس کے کان میں آواز پڑے۔اس بات کا مستحق ساری دنیا کے لوگوں کو کس نے بنایا ؟ ہم اس کا نہایت آسانی اور صداقت سے یہ جواب دے سکتے ہیں کہ خود شیطان نے لوگوں کو یہ سوال کئے جانے کے قابل بنا دیا کیونکہ اس نے ساری دنیا کو اطلاع دے دی کہ مسیح موعود آگئے۔غرض وہی وجود جو دنیا کو برباد اور گمراہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ جماعت احمدیہ کی ترقی کا موجب بن گیا۔ان حالات اور واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے مخالفتوں اور تکلیفوں سے کبھی نہیں گھبرانا چاہئے۔خواہ وہ کس حد تک پہنچ جائیں مخالفت لوگوں کو بیدار کرتی ہے اور ان کی مستیوں کو دور کرتی ہے اور بسا اوقات ضروری ہوتی ہے۔مجھے خوب یاد ہے میں اس وقت چھوٹا سا تھا مگر بات اچھی طرح یاد ہے کہ کئی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کرتے کہ ان کے علاقہ میں جماعت کی ترقی نہیں ہوتی۔اس پر آپ فرماتے جا کر آگ لگا دو تب لوگ توجہ کریں گے۔اگر یوں کسی کے گھر جا کر دستک دی جائے تو ہو سکتا ہے جو اب بھی نہ دے لیکن اگر ی اسے یہ کہا جائے کہ تمہارے مکان کو آگ لگی ہوئی ہے تو بے تحاشا اٹھ کھڑا ہو گا۔پس اگر تم ترقی چاہتے ہو تو آگ لگا دو اس کے بعد ترقی ہو گی۔یہ بالکل صحیح اور درست بات ہے مخالفت اور وہ مخالفت جو خدا تعالٰی خود پیدا کر دیتا ہے