خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 512

خطبات محمود ۵۱۲ سال ۱۹۲۸ء بڑی قیمتی چیز ہے۔ابتلاء خود مانگنا پسندیدہ بات نہیں ہے لیکن اگر کوئی ابتلاء آئے تو اس سے بہتر سے بہتر فائدہ اٹھانا مومن کی شان ہے۔دیکھو جب طوفان آتے ہیں تو علاقوں کے علاقے برباد کر جاتے ہیں یہ عذاب ہوتا ہے۔مگر یہی پانی ہوتا ہے جب اس سے گورنمنٹ بجلی نکالتی ہے تو کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح شیطان کے حملہ کو قابو میں لا کر فائدہ اٹھانا مومن کی شان ہے نہ کہ اس سے گھبرا جاتا۔میں دیکھتا ہوں جہاں سلسلہ کی مخالفت بند ہو جاتی ہے وہاں سلسلہ کی ترقی بھی بند ہو جاتی ہے اور جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں جماعت ترقی کرتی جاتی ہے پس ہماری جماعت کے لوگوں کو مخالفتوں سے ڈرنا نہیں چاہئے۔مگر میں دیکھتا ہوں جہاں جہاں جماعت بڑھتی جاتی ہے یہ احساس پیدا ہوتا جاتا ہے کہ مخالفت نہ ہو اور کوئی خلاف آواز نہ اٹھائے۔اگرچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے واقعات آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں مگر وہ زیادہ دور کے زمانہ کے واقعات نہیں ہیں۔یہی قادیان جہاں اب خدا کے فضل سے احمدیوں کی کثرت ہے اور دوسرے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں یہاں بھی ایک وقت وہ تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آنے والوں کو آرام حاصل نہ تھا۔بعض لوگ رستہ میں کیلے گاڑ دیتے تھے اور کہتے تھے ہم یہاں اپنے جانور باندھیں گے مگر ان کی غرض یہ ہوتی تھی کہ اندھیرے منہ صبح شام گذرنے والے ٹھوکریں کھا کر گریں۔اگر کوئی ان کیلوں کو اکھیڑ تا تو اس سے لڑائی کی جاتی اور جب بعض جو شیلے احمد کی ان سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انہیں روکتے اور فرماتے صبر کرو پھر مسجد کے آگے دیوار بنادی گئی۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اجازت دے دیتے تو اس کی ایک ایک اینٹ دس پندرہ منٹ میں غائب کر دی جاتی مگر آپ نے اس کی اجازت نہ دی۔اور دو سال تک مقدمہ چلتا رہا تب جا کر وہ دیوار گرائی گئی۔بعض دفعہ گھر کے اندر سے گزار کر نمازیوں کو مسجد میں لایا جاتا تھا مگر با وجود اس کے صبر سے کام لیا گیا۔غرض ان ایام میں اللہ تعالٰی کی طرف سے جو ابتلاء آئے وہ ہمیں بھولے نہیں۔بعد میں آنے والے سمجھتے ہوں گے کہ جماعت کے لوگوں کو کبھی کوئی تکلیف نہ ہوئی ہوگی اور شروع سے یہی حالت ہوگی جو اب ہے مگر یہ درست نہیں۔یہاں بڑے بڑے ابتلاء آئے۔ان میں سے بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو میری ہوش سے بھی پہلے کی ہیں۔میں نے سنا ہے کہ ایک وقت چوہڑوں کو کہہ دیا گیا تھا کہ وہ صفائی نہ کریں اور کہاروں سے کہہ دیا گیا تھا کہ برتن نہ دیں۔یہ میری ہوش سے پہلے کی باتیں ہیں مگر یہ باتیں میری ہوش کی ہیں کہ معمولی