خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 510

خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۲۸ء کے ساتھ ہی شیطان کی پیدائش کا ذکر موجود ہے۔لوگ حیران ہوتے ہیں کہ انسان کے ساتھ ہی شیطان کہاں سے آگیا۔حالانکہ شیطان خدا تعالی کے قانون قدرت کا حصہ ہے اور بغیر شیطان کے ملائکہ کی بھی خوبصورتی نظر نہیں آسکتی اور بغیر برے نظاروں کے خوبصورت نظاروں کی حقیقت بھی دکھائی نہیں دے سکتی۔بظاہر ہر ایک برائی تکلیف دہ اور رنج پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔لیکن در حقیقت انسان کو خوبصورتی کی طرف مائل کرتی ہے۔اسی طرح اگر دنیا میں خدا کی آواز کے ساتھ شیطان کی آواز نہ ہوتی تو نبیوں کی جماعتوں کی ترقی کی کوئی صورت نہ ہوتی۔وہ کونسی چیز ہے جو نبی کی آواز کو دنیا کے کناروں تک پہنچاتی ہے۔کیا اس کے اپنے اشتہار اور اس کی اپنی کتابیں دنیا کے کناروں تک پہنچتی ہیں۔اس کی اپنی آواز محدود ہوتی ہے اور اس کے ماننے والے ابتداء میں تین چار یا دس میں ہوتے ہیں۔وہ دنیا کے کناروں تک نہبی کی آواز کیونکر پہنچا سکتے ہیں۔وہ وائرلیس کا آلہ جو نبی کی آواز کو ساری دنیا میں پہنچاتا ہے اور وہ بجلی کی تاریں جو اس کی آواز کو دنیا کے کناروں تک پہنچاتی ہیں وہ شیطان اور اس کی ذریت ہوتی ہے۔جس وقت نبی آواز بلند کرتا ہے تو شیطان اور اس کی ذریت اس آواز کو ساری دنیا میں پہنچا دیتی ہے۔وہ تمام دنیا کو اس طرح خبر کر دیتی ہے کہ کہتی پھرتی ہے فلاں انسان بہت برا ہے اس کی طرف توجہ نہ کرنا لوگ اس انسان کے برے ہونے کا فیصلہ تو بعد میں کرتے ہیں پہلے انہیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص دنیا میں کھڑا ہوا ہے اور اس کا یہ دعوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دعویٰ کیا تو اس وقت آپ کو جو سامان میسر تھے ان کے ذریعہ کہاں دنیا کو اپنے دعوئی سے مطلع کر سکتے تھے۔ایک ایسا آدمی جس پر چالیس پچاس آدمی ایمان لائے نہ گورنمنٹ کو اس کی طرف توجہ ہو سکتی تھی اور نہ کسی اور کو۔اس وقت شیطان آگے آیا اور اس نے آکر کہا اس شخص نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس سے بچنا اور اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔وہ امیروں کے پاس گیا اور ان کے کانوں میں جا کر یہ ڈالا کہ یہ شخص تمہاری امارتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔وہ مولویوں کے پاس گیا اور انہیں جا کر پڑھایا کہ یہ تمہاری مولویت کو برباد کرنا چاہتا ہے۔وہ فقیروں کے پاس گیا اور انہیں جا کر بتایا کہ یہ تمہارے فقر پر پانی پھیرنا چاہتا ہے۔وہ صوفیوں کے پاس گیا اور انہیں جا کر سکھایا کہ یہ تمہاری روحانیت کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہے۔وہ عوام کے پاس گیا اور جا کر کہا یہ تمہاری طاقت کو تہ و بالا کرنا چاہتا ہے۔اس وقت جب امراء نے سمجھا کہ ہماری حکومت تباہ کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہے تو چونکہ ان کی کرتا دھرتا