خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 414

خطبات محمود ۴۱۴ سال ۱۹۲۸ء اب دیکھو یہ سوال کس عمدگی سے حل ہو جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں پھر کیوں تنزل میں ہیں اور کیوں ترقی نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی صفات کو جذب نہیں کرتے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ مسلمان ہر فن میں بڑھے ہوئے تھے اور کوئی ان کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔اس لئے ترقی کرتے رہے۔وہ اس لئے ہر بات میں کمال نہ حاصل کرتے تھے کہ دنیا حاصل کریں۔جن لوگوں کے مد نظر صرف دنیا ہوتی ہے وہ جلدی گر جاتے ہیں۔تو ایک زمانہ ایسا تھا کہ مسلمان ہر قسم کے کاموں میں حصہ لیتے اور اس سے ان کی غرض اسلام کی عزت بڑھانا ہوتی تھی۔ان میں ایسی غیرت پائی جاتی تھی کہ سید احمد صاحب بریلوی کے مرید سید اسمعیل شہید کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے سنا ایک سکھ اتنا اچھا تیرتا ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کیا کوئی مسلمان بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔گویا ان کے نزدیک مسلمان کسی بات میں پیچھے نہ رہ سکتے تھے۔جب انہیں معلوم ہوا کہ کوئی مسلمان بھی اس کا مقابلہ تیرنے میں نہیں کر سکتا تو انہوں نے کہا یہ بہت شرم کی بات ہے اور وہیں تیرنے کی مشق کرنی شروع کر دی اور اتنا کمال پیدا کیا کہ کہہ دیا لاؤ میرے ساتھ وہ تیرلے۔یہ کتنی معمولی بات تھی مگر انہوں نے اتنا بھی برداشت نہ کیا کہ تیرنے میں بھی کوئی مسلمانوں سے بڑھ جائے اور باتیں تو الگ رہیں۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ مسلمان بہتر سے بہتر آدمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور ان میں بہتر آدمی پیدا ہوتے تھے۔اب بھی مسلمانوں کی ترقی کا راز اسی میں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کامل عبد بن کر دکھا ئیں۔دنیا کے لئے ہر رنگ اور ہر پہلو میں مفید ہوں۔میں جب یہ پڑھتا ہوں تو شرم کے مارے سر نچا ہو جاتا ہے (گو ایک رنگ میں خوشی بھی ہوتی ہے کہ ایک ہندوستانی کا کمال ظاہر ہو رہا ہے) کہ ڈاکٹر بوس نے یہ کیا وہ کیا میں کہتا ہوں۔ڈاکٹر بوس اگر ترقی کر کے شہرت حاصل کر سکتے ہیں تو مسلمانوں میں سے کیوں ایسے آدمی پیدا نہیں ہوتے اور کیوں ان میں سے ایسے انسان نہیں نکلتے جو دنیا کے لئے اس طرح مفید ہوں۔تو مسلمانوں کے لئے کامل عبد بننے کے واسطے ضروری ہے کہ وہ دنیا کو فائدہ پہنچانے والے کاموں میں ترقی کرنے لگ جائیں۔جب تک یہ نہ ہو گا دنیا میں ان کو ترقی حاصل نہ ہوگی۔اگر کوئی ایک آدمی بڑا ہوتا ہے تو وہ اپنی زندگی گزار کر چلا جاتا ہے اس سے قوم ترقی نہیں کر سکتی۔قومی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ساری قوم کمال پیدا کرے۔پس جب تک مسلمان دنیا کے فائدہ کے لئے اپنے اندر صفات نہ پیدا کریں گے جب تک ان کی زندگیاں ان کے لئے نہیں بلکہ ساری قوم کے لئے